سمندری طوفان میلیسا، کیوبا، ہیٹی اور جمیکا میں 4 لاکھ 77 ہزار بچے متاثر، یونیسف کی امدادی سرگرمیاں جاری

اقوام متحدہ۔18نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا ہے کہ سمندری طوفان میلیسا کے بعد کیوبا، ہیٹی اور جمیکا میں تقریباً 4 لاکھ 77 ہزار بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، طوفان کو تین ہفتے گزرنے کے باوجود کئی سکول اب بھی تباہ حال یا بند ہیں، جس کے باعث بچوں کی بڑی تعداد کلاسز سے محروم ہے یا عارضی مقامات پر نامناسب سہولیات …

اقوام متحدہ۔18نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا ہے کہ سمندری طوفان میلیسا کے بعد کیوبا، ہیٹی اور جمیکا میں تقریباً 4 لاکھ 77 ہزار بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، طوفان کو تین ہفتے گزرنے کے باوجود کئی سکول اب بھی تباہ حال یا بند ہیں، جس کے باعث بچوں کی بڑی تعداد کلاسز سے محروم ہے یا عارضی مقامات پر نامناسب سہولیات کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے۔

شنہوا کے مطابق ترجمان نے بتایا کہاس صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال یونیسف مقامی حکومتوں اور شراکت دار اداروں کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور تباہ شدہ سکولوں کی بحالی پر کام کر رہا ہے۔کیوبا میں یونیسف نے 21 ہزار طلبہ کے لیے سکول کٹس سمیت ضروری سامان پہلے سے پہنچا دیا ہے، جبکہ ہیٹی کے سوڈ اور نپس علاقوں میں 2,800 سکول کٹس تقسیم کی جا چکی ہیں اور آئندہ ہفتوں میں مزید اقدامات کا منصوبہ ہے۔

ترجمان کے مطابق جمیکا میں یونیسف نے تدریسی و تعلیمی مواد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 100 عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں، جن سے 10 ہزار بچوں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ابتدائی جائزوں کے مطابق سمندری طوفان میلیسا سے جمیکا، کیوبا اور ہیٹی میں 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مزید خبریں