اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ سمندر ماحولیاتی پائیداری، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ان کا تحفظ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جمعرات کو وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کےمطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام …
سمندر ماحولیاتی پائیداری، معیشت اور سلامتی کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، وفاقی وزیر برائے بحری امور

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ سمندر ماحولیاتی پائیداری، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ان کا تحفظ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جمعرات کو وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کےمطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سمندروں کے تحفظ کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آب و ہوا کی تبدیلی اور آلودگی کے باعث سمندر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے ورلڈ میری ٹائم ڈے 2025 کے موضوع ’’ہمارا سمندر، ہماری ذمہ داری، ہمارا موقع‘‘ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شپنگ انڈسٹری کو پائیدار رویے اپنانا ہوں گے تاکہ معاشی و ماحولیاتی فوائدکو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امورنے واضح کیا کہ پلاسٹک کچرا، صنعتی و گھریلو فضلہ، سمندر کی سطح میں اضافہ اور تیزابیت جیسے مسائل نہ صرف سمندری حیات بلکہ ساحلی بستیوں کے لئے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی اور بحری معاہدوں پر عملدرآمد کے لئے پرعزم ہے اور اس ضمن میں مینگروز کی بحالی اور دلدلی علاقوں کے تحفظ جیسے منصوبے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بحری جغرافیائی حیثیت اسے ترقی کے مواقع کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ خطے میں تعاون، سائنسی تحقیق اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے سمندری چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نوجوانوں، خواتین اور مقامی برادریوں کو بحری شعبے میں زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے سمندر محفوظ اور ترقی کے ضامن بن سکیں۔ انہوں نے قومی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئےبتایا کہ پاکستان ’’میری ٹائم ویک‘‘ یکم سے 7 نومبر تک منایا جائے گا جس میں تمام شراکت دار ادارے شریک ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈز کو ہانگ کانگ کنونشن کے مطابق بنانے، وزارت میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی میری ٹائم سیکرٹریٹ قائم کرنے اور سی پورٹس کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا بیڑہ ایک سال میں 30 جہازوں تک بڑھایا جائے گا جبکہ میری ٹائم انکیوبیٹرز کا قیام، ملک کی شمسی توانائی سے چلنے والی پہلی ماہی گیری کشتی اور کراچی پورٹ پر ڈیجیٹل آلودگی کنٹرول سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی اکنامک زونز میں سائنسی سروے کرائے جائیں گے اور گوادر پورٹ و فری زون کو انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے معیارات کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے ماہی گیروں، ملاحوں، سائنسدانوں، ماہرین ماحولیات اور بندرگاہی عملے کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی مسلسل کاوشیں ورلڈ میری ٹائم ڈے کی اصل روح کو اجاگر کرتی ہیں۔








