سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے محصولات میں رواں مالی سال کے دوران 11 فیصد اضافہ ہوا ، سٹیٹ بینک

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کے محصولات میں رواں مالی سال کے دوران 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران 7 ماہ کے عرصہ میں ترسیلات زر کی وصولیاں 23.2 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں۔ سٹیٹ بینک کے تخمینہ کے مطابق جاری مالی سال میں ترسیلات زر کے محصولات کا مجموعی حجم 41.2 ارب ڈالر تک بڑھنے …

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کے محصولات میں رواں مالی سال کے دوران 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران 7 ماہ کے عرصہ میں ترسیلات زر کی وصولیاں 23.2 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں۔ سٹیٹ بینک کے تخمینہ کے مطابق جاری مالی سال میں ترسیلات زر کے محصولات کا مجموعی حجم 41.2 ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران خلیجی ممالک سے بھیجی گئی ترسیلات زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس طرح دوران مالی سال میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے بھیجی جانے والی مجموعی رقوم میں خلیجی ممالک کا حصہ 46.9 فیصد رہا ہے۔

اس دوران سعودی عرب سے ترسیلات زر کی وصولی 3.89 ارب ڈالر یعنی 16.8 فیصد جبکہ متحدہ عرب امارات سے 4.78 ارب ڈالر یعنی 20.6 فیصد ترسیلات زر محصولات ہوئے ہیں۔ اسی طرح خلیجی ممالک سے بھیجی گئی رقوم میں امان ، قطر، کویت اور بحرین کا حصہ 9.5 فیصد رہا ہے اور ان ممالک سے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پی) کے شعبہ ریسرچ اینڈ پبلیکیشن کے سینئر ڈائریکٹر شاہد انور نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ایران ، امریکا تنازعہ کے باعث پیدا ہونے والی خلیجی ممالک کی حالیہ صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں 10 تا 15 فیصد کی کمی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر خلیج کی حالیہ صورتحال زیادہ عرصہ تک برقرار رہتی ہے تو ترسیلات زر محصولات میں ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی کمی کا خدشہ ہے جس سے پاکستان کے حسابات جاریہ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔