اقوام متحدہ۔10نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے سمٹ آف دا فیوچر کے لیے مشاورت بارے قائم 17رکنی ہم خیال گروپ کی طرف سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سال منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس سمٹ آف دا فیوچر میں اس کے اقدامات کے اعلامیہ میں ترقی پزیر ممالک کے خدشات اور ترجیحات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ ہم خیال یا مشترکہ …
سمٹ آف دا فیوچر اعلامیہ میں ترقی پزیر ممالک کے خدشات اور ترجیحات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، اقوام متحدہ میں پاسکتان کے مستقل مندوب منیر اکرم

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔10نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے سمٹ آف دا فیوچر کے لیے مشاورت بارے قائم 17رکنی ہم خیال گروپ کی طرف سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سال منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس سمٹ آف دا فیوچر میں اس کے اقدامات کے اعلامیہ میں ترقی پزیر ممالک کے خدشات اور ترجیحات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
ہم خیال یا مشترکہ سوچ رکھنے والے ممالک کے17 رکنی گروپ میں پاکستان،الجیریا، بولیویا،برازیل، چین، کیوبا، مصر، اریتریا،ایران، لیبیا، نکاراگوا،نائیجیریا،روس، سری لنکا، شام، وینزویلا اور زمبابوے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے آئندہ سال منعقد ہونے والے سرابراہی اجلاس سمٹ آف دا فیوچر کی تیاری کے لیے مشاورت کے دوبارہ آغاز کے موقع پر کہا کہ اس سے مذاکرات میں اتفاق اور اتحاد کے حصول کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے 2024 کے سربراہی اجلاس کی تجویز ’’ہمارا مشترکہ ایجنڈا‘‘کے موضوع پر اپنی رپورٹ میں امن اور سلامتی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پیش کی تھی، جس میں قیام امن کے لیے مزید سرمایہ کاری، علاقائی تعاون ،تنازعات کی روک تھام، جوہری ہتھیاروں اور سائبر وارفیئر جیسے سٹریٹجک خطرات میں کمی اور بیرونی خلا کے پرامن اور پائیدار استعمال کو یقینی بنانے لیے ’’امن کا نیا ایجنڈا‘‘ ترتیب دیا گیا تھا۔ سربراہی اجلاس میں مستقبل کے لیے ایک معاہدےکی منظوری دی جائے گی جس پر پہلے سے بین الحکومتی مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے سے اتفاق کیا جائے گا۔
پاکستانی مندوب نے گروپ کی جانب سے اپنے ریمارکس میں کہا کہ’’مستقبل کے لیے ایک معاہدہ‘‘ پر مذاکرات میں ان عوامل سے متعلق امور کو بنیاد بنایا جائے جن پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت کے دوران اتفاق رائے ہوناتھا ۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلا ت طے کرنے سے قبل ان عوامل پر اتفاق کیا جانا چاہیےبصورت دیگر تیاری کے عمل کی کوئی بین الحکومتی جہت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ غربت کا مکمل خاتمہ ہمارے مذاکرات میں ایک وسیع اور اہم مسئلہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے لیے ایک معاہدہ کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کی توثیق ،ایس ڈی جیز سربراہی اجلاس کے ’’سیاسی اعلان‘‘ پر عمل درآمد سمیت کثیرالجہتی کی حمایت اور بین الاقوامی اتحاد اور تعاون میں اضافہ، ترقی اور غربت کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ اور پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جیز) کے حصول کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کا تعین کرنا چاہیے۔
منیر اکرم نے کہا کہ ہم خیال گروپ نے یکطرفہ اور پولرائزیشن سے گریز اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر پوری طرح عمل درآمد کرتے ہوئے متعدد موجودہ اور ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز سے جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار طریقے سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس سلسلے میں گروپ نے نوجوانوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی بین الحکومتی نوعیت کے مطابق ان کی بامعنی شمولیت پر زور دیا۔ منیر اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ ’’مستقبل کے لئے معاہدے‘‘ (A Pact for the Future ) میں تمام اداروں کی جامع اور متوازن کوریج ہونی چاہیے جو ایک نئے اور زیادہ مساوی عالمی گورننس انتظامات کا حصہ بنے گی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تین اہم اداروں میں اصلاحات اور امن ساز کمیشن( Peacebuilding Commission ) کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی، تجارتی اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کی اصلاح بھی ہونی چاہیے تاکہ اسے مزید منصفانہ، منصفانہ اور جوابدہ بنایا جا سکے۔








