سندھ حکومت کو حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے میں وفاق سے تعاون کرنا چاہئے، عمران اسماعیل

حیدر آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کہاکہ وفاق کو یونیورسٹی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر وفاقی حکومت حیدرآباد میں یونیورسٹی بنارہی ہے تو سندھ حکومت کو تعاون کرنا چاہیئے، حیدرآباد بڑا شہر ہے یہاں مزید یونیورسٹیز بنائی جاسکتی ہیں ہم سکھر ، لاڑکانہ ، بدین اور تھر پار کر میں بھی جلد یونیورسٹیز کے …

حیدر آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کہاکہ وفاق کو یونیورسٹی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر وفاقی حکومت حیدرآباد میں یونیورسٹی بنارہی ہے تو سندھ حکومت کو تعاون کرنا چاہیئے، حیدرآباد بڑا شہر ہے یہاں مزید یونیورسٹیز بنائی جاسکتی ہیں ہم سکھر ، لاڑکانہ ، بدین اور تھر پار کر میں بھی جلد یونیورسٹیز کے قیام کی بنیادیں رکھیں گے ، سول ایوی ایشن یا حیدرآباد ایئر پورٹ کوختم کرنے کا تاثر بالکل غلط ہے جلد ہی ایئر پورٹ کو توسیع دیکر اسے بین الاقوامی معیار کا بنایا جائے گا وفاق اور سندھ کے تعلقات کی بہتری میں وزیر اعظم نہیں خود سندھ حکومت رکاوٹ ہے ،گورنر ہاﺅس کراچی عوام کے لیے ہے، اس میں ایک اچھا میوزیم بنایاجارہا ہے ،ایم کیو ایم سے تعلقات مزید اچھے ہو نگے، ہمارا اختلاف الطاف حسین اور ان کی دہشت گردی سے تھا اب مائنس الطاف کے بعد یہ نرم تاثر والی ایم کیو ایم پاکستان ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی یونیورسٹی کے قیام کے لیے مختلف مقامات کا دورہ کرنے کے بعدسرکٹ ہاﺅس حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہیں اس موقع پر پی ٹی آئی سندھ کے قائم مقام صدر ورکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اراکین راکین ِ قومی اسمبلی نذہت پٹھان ،جئے پرکاش اور رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی بھی موجود تھے گورنر عمران اسماعیل نے کہاکہ وزیر اعظم نے حیدرآباد کے لیے وفاقی یونیورسٹی کا سنگ ِ بنیاد اسلام آباد میں رکھ دیا ہے ۔انہی کی ہدایت پر میں نے آج حیدرآباد میں تین مقامات پر زمین دیکھی ہے ایک تو نامکمل تعمیر کے ساتھ بحریہ یونیورسٹی موجود ہے ہم اسے مزید توسیع دیکر وفاقی یونیورسٹی کا درجہ دے سکتے ہیں، دوسرے ایک مقام سول ایوی ایشن کے ادارے سے متصل زمین ہے اور تیسرا ایک ہاﺅسنگ اسکیم کے ساتھ زمین ہے میں ان تینوں مقامات کی مکمل رپورٹ 12اپریل کو وزیر اعظم عمران خان کو پیش کردوں گا۔ بحریہ یونی ورسٹی کی تجویز پر عمل ہوتا ہے تو یہ یونیورسٹی 6سے8 ماہ میں فنکشنل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد ملک کا تیسرا اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن یہ اپنی یونیورسٹی سے محروم ہے یہ اعزاز پی ٹی آئی کی حکومت کو حاصل ہورہا ہے کہ وہ یہاں یونیورسٹی قائم کررہی ہے جو اس شہر کا حق ہے یہاں مزید یونیورسٹیز قائم کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔حیدرآباد کے بعد ہم سکھر ، لاڑکانہ ، بدین اور تھر پار کر میں یونیورسٹیز بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق جہاں چاہے یو نی ورسٹی بناسکتا ہے اس کے لیے کسی صوبہ ہے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اورنہ کوئی آئینی رکاوٹ ہے تاہم اگر صوبہ اس کام میں حصہ ڈالنا چاہتا ہے تو ضرور تعاون کرے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کے لیے162ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے سندھ حکومت اسمیں رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے اس اسکا خیر مقدم کرنا چاہیئے یہ عوام کی فلاح و بہبود کا پروگرام ہے اس سے تو سندھ کو فائدہ ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان سندھ حکومت سے بہتر تعلقات کے لیے کوشش کرچکے ہیں لیکن انہوں نے وفاق و صوبہ کے تعلقات کو اپنے مقدمات اور کرپشن کی تحقیقات سے نتھی کیا ہوا ہے اسمیں ریلیف چاہتے ہیں جبکہ ہم کسی ادارے پر دباﺅ ڈال رہے ہیں نہ انہیں ہدایت دے رہے ہیں ادارے آزاد و خود مختار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ حیدرآباد سے سول ایوی ایشن کا ادارہ یا حیدرآباد ایئر پورٹ کو ختم کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایئر پورٹ کے رن وے کو توسیع دیکر اسے بین الاقوامی معیار کا بنائیں یہاں سے جدہ ، دبئی وغیرہ کے لیے کارگو سروس اور مسافر پروازیں شروع ہوں اور ڈومیسٹک فلائٹس بھی شروع کی جائیں ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے تعلقات کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ ریکارڈ پر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کامنشور و پروگرام ایک ہے لیکن اس میں رکاوٹ ایم کیو ایم اور اس کے قائد کی دہشت گردانہ سرگرمیاں تھیں اب مائنس الطاف حسین کے بعد ایم کیو ایم پہلے والی نہیں ایکسافٹ امیج کے ساتھ ایم کیو ایم سامنے آئی ہے تو ہمارا ان کا تعاون بڑھا ہے جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے تو یہ اس وقت دیکھ کر حکمتِ عملی بنائی جائے گی۔ انہوں نے گورنر ہاﺅس کو یونیورسٹی بنائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ گورنر ہاﺅس کراچی پہلے والا نہیں ہے اب یہاں اسپیشل افراد ، یتیموں کے لیے پروگرامز ہوتے ہیں عوام ہر ہفتہ یہاں سیر کے لیے آتے ہیں اسکولز و کالجز کے طلبہ وطالبات گورنر ہاﺅس آتے رہتے ہیں ہم یہاں ایک بڑا قائد اعظم میوزیم بنارہے ہیں۔

Leave a Reply