حیدرآباد۔ 14 مارچ (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی میں’’چاول کی بہتر پیداوار کے لیے پودے کی خوراک اور غیر ضروری گھاس پر قابو پانا‘‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا،جس میں ڈاکٹر قمرالدین جوگی، ڈاکٹر محمد نواز کاندھڑو اور ڈاکٹر نعمت اللہ لغاری،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر ریما وسطرو اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے یونیورسٹی …
سندھ زرعی یونیورسٹی میں’’چاول کی بہتر پیداوار کے لیے پودے کی خوراک اور غیر ضروری گھاس پر قابو پانا‘‘کے عنوان سے سیمینار

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 14 مارچ (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی میں’’چاول کی بہتر پیداوار کے لیے پودے کی خوراک اور غیر ضروری گھاس پر قابو پانا‘‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا،جس میں ڈاکٹر قمرالدین جوگی، ڈاکٹر محمد نواز کاندھڑو اور ڈاکٹر نعمت اللہ لغاری،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر ریما وسطرو اور دیگر نے شرکت کی۔
اس موقع پر سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے یونیورسٹی کی کراپ پروڈکشن فیکلٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف ایگرونومی کی پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر ریما وسطڑو کی ’’چاول کی بہتر پیداوار کے لیے پودے کی خوراک اور غیر ضروری گھانس پر قابو پانا‘‘ کہا ہے کہ گندم کے بعد چاول خوراک کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جبکہ دنیا میں چاول کی تجارت میں پاکستان تقریباً 9.10 فیصد شامل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان چاول کا ہائبرڈ سیڈ چین سمیت مختلف ممالک کو امپورٹ کر رہا ہے،ملک میں چاول کے ہائبرڈ سیڈ پر تحقیق خوش آئند ہے اور نجی اور سرکاری اداروں کی مشترکہ کوششوں سے اب تک10سے زیادہ ہائبرڈ اجناس تیار ہو چکی ہیں اور مقامی اور موروثی اجناس کے مقابلے میں ہائبرڈ بیج کم از کم 15 سے 20 فیصد بہتر پیداوار کے حامل ہوتے ہیں۔
اس موقع پر پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر ریما وسطرو نے بتایا کہ انہوں کے چاول کی بہتر پیداوار میں حاول رکاوٹوں پر تحقیق کی ہے جبکہ فصل میں غیرضروری گھاس اور پودے چاول کے فصل میں دھوپ اور سورج کی روشنی میں مداخلت کرتے ہیں اور فصل کو کمزور کرتے ہیں اور پیداوار میں کمی آتی ہے۔ اس موقع پرڈاکٹر ریما وسطڑو نے اپنا تحقیقی مقالہ وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری کے سپرد کیا۔








