سندھ طاس معاہدہ زراعت کے شعبہ کیلئے لائف لائن ،بھارتی آبی دہشتگردی سے غذائی تحفظ کے عالمی اہداف متاثر ہونے کے شدید خطرات لاحق

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت کا انحصار سندھ طاس سے آبپاشی کے نظام پر ہے ، گندم، چاول، کپاس، گنا سمیت دیگر اہم فصلیں پانی کی مسلسل اور بلا روک ٹوک دستیابی پر انحصار کرتی ہیں،سندھ طاس معاہدہ پر 1960 میں پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی ثالثی میں دستخط کئے ، یہ معاہدہ پائیدار پانی کی تقسیم کے بڑے اور اہم عالمی …

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت کا انحصار سندھ طاس سے آبپاشی کے نظام پر ہے ، گندم، چاول، کپاس، گنا سمیت دیگر اہم فصلیں پانی کی مسلسل اور بلا روک ٹوک دستیابی پر انحصار کرتی ہیں،سندھ طاس معاہدہ پر 1960 میں پاکستان اور بھارت نے عالمی بینک کی ثالثی میں دستخط کئے ، یہ معاہدہ پائیدار پانی کی تقسیم کے بڑے اور اہم عالمی معاہدوں میں سے ایک ہے جو نہ صرف جغرافیائی اور سیاسی تناظر میں بنیادی نوعیت کا حامل ہے بلکہ پاکستان میں زراعت کے شعبہ کیلئے بھی ایک اہم لائف لائن ہے ، پاکستان کی زرعی معیشت سندھ طاس کے نظام پر انحصار کرتی ہے۔

سندھ طاس معاہدے میں دریائے سندھ اور اس کے پانچ بڑے معاون دریا بشمول راوی، بیاس، ستلج، جہلم اور چناب شامل ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔پاکستان خاص طور پر سندھ اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی زرعی معیشت بنیادی طور پر ان پانیوں پر منحصر کرتی ہے۔سندھ طاس معاہدہ کے تحت مغربی دریا سندھ، جہلم، چناب پاکستان جبکہ مشرقی دریا راوی، بیاس، ستلج بھارت کے لیے مختص کیے گئے۔ مغربی دریائوں کے پانی پر بھارت کو محدود استعمال کی اجازت دی گئی۔

دو ریاستوں کے درمیان آبی تقسیم کے اس معاہدہ نے آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے اور دہائیوں طویل زرعی منصوبہ بندی کی تشکیل کی۔ پاکستان میں زرعی شعبہ قومی معیشت میں اہم اور بنیادی کردار کا حامل ہے،سندھ طاس معاہدہ نے دریائوں کے پانی تک پاکستان کی رسائی کو یقینی بنایا جو ملک کے نہری آبپاشی کے وسیع نیٹ ورک کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس معاہدہ کو دنیا کے بڑے اور اہم معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت کا انحصار سندھ طاس سے حاصل ہونے والی آبپاشی کے نظام پر ہے اور گندم، چاول، کپاس، گنا سمیت دیگر اہم فصلیں اور چارہ جات پانی کی مسلسل اور بلا روک ٹوک دستیابی پر انحصار کرتی ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت مغربی دریاؤں تک یقینی رسائی کے بغیر پاکستان کو غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارت نے معاہدہ کے تحت پنجاب، ہریانہ اور راجستھان جیسی ریاستوں میں آبپاشی اور پن بجلی کے منصوبوں کی توسیع کی اور مشرقی دریاؤں پر مکمل کنٹرول کر لیا۔

دوسری جانب بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کے محدود زرعی استعمال کی اجازت ہے لیکن بھارت مغربی دریائوں کے پانی کے پاکستان کی طرف بہاؤ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کرتا آیا ہے۔ سبز انقلاب کے دور میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ سے قابل اعتماد آبپاشی اور اعلیٰ پیداوار کے حامل بیج کی اقسام کو اپنانے کے قابل بنایا گیا جس کے نتیجہ میں پاکستان میں کھاد اور زرعی مشینری کے استعمال میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں خوراک کی پیداوار بھی مستحکم ہوئی۔

سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے بلا جواز ، غیر قانونی اور ہٹ دھرمی پر مشتمل بھارتی اقدامات سے پاکستان میں زراعت سمیت موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا خدشہ ہے جن میں برف پگھلنے کی شرح میں اضافہ اور بے ترتیب مون سون کے باعث پانی کی طویل المدتی دستیابی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔مزید برآں پانی کے بہائو میں کمی سے پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی ڈیموں میں تلچھٹ کے جمع ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی سے زراعت کیلئے آبپاشی کے نظام الاوقات اور سیلاب پر کنٹرول بھی متاثر ہوتا ہے۔

ماضی میں سندھ طاس معاہدہ پاک بھارت جنگوں اور سفارتی بحرانوں میں بھی قابل عمل رہا لیکن مودی کی موجودہ بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور بلا جواز اقدامات سے نہ صرف دو ایٹمی ریاستوں میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان میں زراعت کے شعبہ میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس میں ترمیم نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کو غیر فعال کر سکتا ہے بلکہ معاہدہ کے تحت کسی تنازعہ کی صورت میں غیر جانبدار ماہرین اور ثالثی پینل سے زرعی پانی کی فراہمی کی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو کھیتی باڑی کیلئے پانی کی دستیابی اور دیہی معیشت کیلئے ضروری ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی آبی دہشتگردی سے غذائی تحفظ کے عالمی اہداف کے متاثر ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے جاری سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں زرعی استحکام کا سنگ بنیاد ہے جو کروڑوں افراد کے لیے خوراک ،دیہی روزگار اور ذریعہ معاش کے حوالہ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔