لاہور۔5مارچ (اے پی پی):وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے انحراف کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے ، دنیا بھارت کی اس آبی دہشت گردی کو روکنے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اے پی پی سے گفتگو کے دوران کیا۔رانا سکندر حیات خان نے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ …
سندھ طاس معاہدے سے انحراف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ، دنیا بھارت کی آبی دہشت گردی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے،وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان

مزید خبریں
لاہور۔5مارچ (اے پی پی):وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے انحراف کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے ، دنیا بھارت کی اس آبی دہشت گردی کو روکنے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اے پی پی سے گفتگو کے دوران کیا۔رانا سکندر حیات خان نے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی بنیاد ہے اور اس کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ و دیگر دریاں کے نظام سے متعلق واضح حقوق حاصل ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری عالمی نظام کا بنیادی اصول ہے اور بھارت کو چاہیے کہ وہ سندھ طاس معاہدے سمیت تمام عالمی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔
رانا سکندر حیات خان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی اہم مثال ہے اور اس کے ذریعے دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے معاملات کو منظم انداز میں چلایا جا رہا ہے،اس معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، بھارت کی جانب سے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے عالمی برادری سے اس معاملے پر نوٹس لینے اور ورلڈ بینک سے معاہدے کے ضامن کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند بنایا جائے تاکہ خطے میں آبی تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔








