سوئٹزرلینڈ میں اہم بریک تھرو سے عالمی امن قائم ہوگا، ملک کی حقیقی ترقی چاروں صوبوں کی یکساں ترقی سے مشروط ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

سوئٹزرلینڈ میں اہم بریک تھرو سے عالمی امن قائم ہوگا، ملک کی حقیقی ترقی چاروں صوبوں کی یکساں ترقی سے مشروط ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس اہم بریک تھرو سے عالمی امن قائم ہوگا، ملک کی حقیقی ترقی چاروں صوبوں کی یکساں ترقی سے مشروط ہے۔ وہ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر کے سامنے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اس وقت ایوان میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر ایک تاریخ ساز دن ہے، جب پرسوں برگن سٹاک (سوئٹزرلینڈ) میں ایران اور امریکاکے درمیان چند دن پہلے طے پانے والے ایم او یو کے سلسلے میں دونوں ممالک کی قیادت وہاں تشریف لائی جس پر پاکستان نے بھی بطور ثالث دستخط کیے تھے۔ الحمداللہ پاکستان نے وہاں بڑے خلوص اور عرق ریزی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کیں جس کے نتیجے میں دن رات گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ بالآخر صبح کے تقریبا ڈھائی تین بجے ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا جس کی تمام فریقین نے توثیق کی۔

انہوں نے کہا کہ آج الحمداللہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے امریکا اور ایران کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ہو چکی ہے بلکہ اگلے 60 دنوں میں ٹیکنیکل مذاکرات ہوں گے جن میں اہم معاملات پر گفتگو ہوگی، ہمیں پوری امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ ایم او یو 60 دنوں کے اندر ایک پائیدار معاہدے میں تبدیل ہو جائے گا جس سے دنیا میں امن قائم ہو گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج آپ کو، قائد حزب اختلاف کو، اس ایوان میں موجود تمام معزز ارکان کو اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، کیونکہ اس جنگ بندی کے عمل میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے، وہ نہ صرف تاریخ ساز ہے بلکہ دنیا کے ممتاز اخبارات ، چاہے وہ واشنگٹن پوسٹ ہو، فنانشل ٹائمز ہو یا نیویارک ٹائمز،سب نے اپنے فرنٹ پیج پر پاکستان کے اس کردار کو نمایاں کیا ہے۔

یہاں موجود معزز ارکان اس بات کی توثیق کریں گے کہ پاکستان کے حوالے سے یہ جو مثبت بیانیہ اور عزت سامنے آئی ہے، اگر ہم اربوں روپے بھی خرچ کرتے تب بھی یہ حاصل نہ کر پاتے۔ میں چاہتا تھا کہ قائد حزب اختلاف کے سامنے یہ باتیں کرتا تاہم میں آگے بڑھتا ہوں۔ مجھے انتہائی مسرت کے ساتھ یہ بتانا ہے کہ آج الحمداللہ ایران کے صدر اور میرے انتہائی پیارے بھائی ڈاکٹر مسعود پزیشکیان پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے کہا ’’شہباز شریف نے اس دن جو تقریر کی، اس میں مزہ نہیں آیا‘‘ اور انہوں نے یہاں اپنے ڈیسک کو بجانے پر بھی بات کی۔ میں نے اگر ڈیسک بجایا تو ان صادق جذبوں کے ساتھ بجایا کہ آج پاکستان میں یکجہتی اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے اور پاکستان کو جو عزت ملی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بے پایاں فضل و کرم ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ میں نے اسی جذباتی انداز میں اس حوالے سے بات کی ہوگی،

جہاں تک بلوچستان پر وسائل خرچ کرنے کا تعلق ہے تو آپ میری تقریر کا ریکارڈ نکلوا کر دیکھ لیں، میں نے کہا تھا کہ چاروں صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ میں والنٹیرلی (رضاکارانہ طور پر) بلوچستان کے وسائل کے حصے کو 100 فیصد بڑھایا۔ چاروں صوبوں نے خوشی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا اور ہمیں بڑی خوشی ہے، میرے الفاظ یہ تھے کہ پنجاب باقی صوبوں کے ساتھ مل کر سالانہ 11 ارب روپے اس مقصد کیلئے حصہ ڈال رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے آج جو بات کی وہ حقائق کے منافی ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اگر صرف پنجاب ترقی کرتا ہے تو وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہے، اگر صرف صوبہ سندھ ترقی کرتا ہے تو وہ بھی پاکستان کی ترقی نہیں ہے۔

جب تک چاروں صوبے ترقی کی اس دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، وہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔ میں نے بارہا یہ بات کہی ہے، لیکن آج انہوں نے اس کو مختلف رنگ دیا جس کا مجھے افسوس ہے۔ بہرحال یہ ان کی اپنی ذہنی اختراع ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کہاکہ آپ 2018ء کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، کیا اس الیکشن میں بھرپور جادوگری نہیں ہوئی؟ کیا بیلٹ باکس نہیں بھرے گئے؟ کیا لوگوں کو پٹے پہنا کر اسلام آباد نہیں لایا گیا اور دھمکیاں نہیں دی گئیں؟ آپ 2018ء کا الیکشن اٹھا کر دیکھ لیں،

اگر وہ قانونی اور آئینی حکومت تھی تو پھر یہ بھی ایک جائز اور قانونی حکومت ہے ، اگر ان کو تحقیقات کا بہت شوق ہے تو شروعات 2018ء سے کرتے ہیں، اس کے بعد ہم 2024ء کے الیکشن کی تحقیقات پر بھی آ جاتے ہیں۔ بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی، میں اسی پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ آئیے آج ایران کے صدر کا بھرپور اور والہانہ استقبال کرنے کے لیے ہمیں تیاری کرنی چاہیے، نہ کہ ہم آج کے دن ان تنازعات میں الجھیں۔