سوڈان میں بے گھر 50 لاکھ بچوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ،یونیسف

اقوام متحدہ۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف )نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے 50 لاکھ بچوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ سوڈان میں دارفور اور کورڈوفان کے بعض علاقوں میں قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔ شنہوا کے مطابق یونیسف نے بتایا کہ اندازے کے مطابق سوڈان میں بے گھر افراد کی تعداد 1 کروڑ …

اقوام متحدہ۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف )نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے 50 لاکھ بچوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ سوڈان میں دارفور اور کورڈوفان کے بعض علاقوں میں قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔ شنہوا کے مطابق یونیسف نے بتایا کہ اندازے کے مطابق سوڈان میں بے گھر افراد کی تعداد 1 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے، جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ادارے نے کہا کہ محصور اور مشکل رسائی والے علاقوں میں پھنسے بچوں تک خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ نئی جگہوں پر پہنچنے والے زیادہ تر بچے شدید کمزوری، پانی کی کمی اور صدمے کی حالت میں ہوتے ہیں اور انہیں فوری طبی، غذائی اور حفاظتی امداد درکار ہوتی ہے۔یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ سوڈان کے بچے مستقل تشدد، بھوک اور خوف میں جی رہے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں اس بحران کا سب سے زیادہ نشانہ ہیں اور انہیں جنسی تشدد کے سنگین خطرات کا سامنا ہے لہذا انہیں تحفظ،خدمات اور عالمی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دورہ سوڈان کے دوران کَسّالہ میں یونیسف کے معاونت یافتہ مرکز پر خواتین اور نوعمر لڑکیوں سے ملاقات کی جو نفسیاتی مدد اور ہنر سیکھنے کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ ان میں سے بہت سی لڑکیاں تشدد سےبچ کر اس مرکز تک پہنچی ہیں مگر دارفور اور کورڈوفان میں جاری عدم تحفظ کے باعث ایسی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔شمالی دارفور میں الفاشر کے اندر اور اطراف ہونے والی لڑائی کے باعث اکتوبر کے آخر سے اب تک 106000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جس سے استقبالیہ مراکز پر دبائو بڑھ گیا اور تاؤیلا جیسے علاقوں میں وسیع غیر رسمی آبادیوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔یونیسف کے مطابق عدم تحفظ نے امدادی سرگرمیوں کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ قحط کے مزید پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے جبکہ محفوظ علاقوں میں پہنچنے والے خاندان صدمے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ فرنٹ لائن پر رہنے والے بچوں کو نفسیاتی دیکھ بھال، صنفی تشدد سے متاثرین کی مدد اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی حاصل نہیں۔

یونیسف نے کہا کہ ادارے نے اب تک بے سہارا بچوں کی رجسٹریشن اور 200 سے زائد بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملایا،صنفی تشدد سے متاثرہ افراد کو نفسیاتی امداد، خدمات اور نقد مدد فراہم کی،لاکھوں افراد تک محفوظ پانی کی فراہمی بحال کی،موبائل کلینکس کے ذریعے صحت و غذائیت کی خدمات اور ہیضہ سمیت مختلف وباؤں کے خلاف اقدامات کئے۔ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تشدد کے فوری خاتمے اور بچوں سمیت عام شہریوں کی سلامتی و وقار کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

مزید خبریں