سٹیٹ آفس کا مقصد وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرکاری رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے،ڈی جی

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):پاکستان سٹیٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبید الدین نے کہا ہے کہ سٹیٹ آفس کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرکاری رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ملازمین کو رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا تمام نظام خودکار ہے۔اے پی پی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد، سرکاری رہائشیں ابتدائی طور پر کراچی اور چٹا گانگ میں فراہم کی …

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):پاکستان سٹیٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبید الدین نے کہا ہے کہ سٹیٹ آفس کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرکاری رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ملازمین کو رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا تمام نظام خودکار ہے۔اے پی پی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد، سرکاری رہائشیں ابتدائی طور پر کراچی اور چٹا گانگ میں فراہم کی گئیں۔بعد میں 1971 کے بعدادارے کو توسیع دی گئی اور اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں دفاتر کے ساتھ ساتھ رہائشی کالونیاں بھی قائم کی گئیں۔

اب تک ملک بھر میں وفاقی حکومت کے ملازمین کو 28,000 سے زائد سرکاری رہائشیں الاٹ کی جا چکی ہیں،ان میں اسلام آباد میں تقریباً 17,496، کراچی میں 7,882، لاہور میں 1,990، پشاور میں 669 اور کوئٹہ میں تقریباً 498 شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ الاٹمنٹ کے عمل کے لیے اب مکمل طور پر آن لائن نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سرکاری ملازمین ویب پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن اور اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ گریڈز 1تا4 کے ملازمین کے لئے اے ٹائپ،گریڈ 5تا6 کے لئے بی ٹائپ،گریڈ 7تا10 کے لئے سی ٹائپ،گریڈ 11تا15 کے لئے ڈی ٹائپ،گریڈ16تا17 کے لئے این ٹائپ،گریڈ 18 کے لئے ایف ٹائپ،گریڈ 19 کے لئے کی ٹائپ،گریڈ 20تا22 کے ایچ اور آئی ٹائپ رہائش گاہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازم کی موت کے افسوسناک واقعے کی صورت میں ان کے خاندان کو تمام واجبات اور ریٹائرمنٹ سے متعلق امور طے کرنے تک الاٹ شدہ رہائش میں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے۔عبید الدین نے بتایا کہ سٹیٹ آفس کمرشل یونٹس اور دکانوں کا بھی انتظام کرتا ہے، جن کی کرایہ اور آمدنی سے ادارے کی آمدنی میں حصہ ڈالتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی الاٹی طے شدہ وقت کے اندر واجبات ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی الاٹمنٹ منسوخ کی جا سکتی ہے،تاہم زیادہ تر ملازمین اپنے واجبات وقت پر ادا کر دیتے ہیں۔ڈی جی نے کہا کہ ادارے کو ماضی میں کئی عدالتی کیسز کا سامنا کرنا پڑا،لیکن صورتحال میں کافی بہتری آ چکی ہے۔2018 میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد، الاٹمنٹ کا عمل زیادہ شفاف اور موثر ہو گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیجیٹل آٹومیشن کا نظام اب درخواست دہندہ کی سنیارٹی اور دستیاب رہائش کی بنیاد پر خود بخود الاٹمنٹ کی تجاویز پیش کرتا ہے۔اس وقت متعدد شہروں سے سرکاری ملازمین کی ویٹنگ لسٹ میں اسلام آباد سے تقریباً 26,711، کراچی سے 5,129، لاہور سے 4,169، پشاور سے 1,469 اور کوئٹہ سے 656 ملازمین شامل ہیں۔عبید الدین نے بتایا کہ حکومت نے نئی رہائش گاہوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اگرچہ 14 مارچ 1995 کی ایک پالیسی تجویز کا مقصد مالی امداد فراہم کر کے ملازمین کو مارکیٹ سے گھر کرایہ پر لینے کی سہولت دینا تھا تاہم یہ پالیسی ابھی زیر غور ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نظام کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنانا ہے، تاکہ کوئی بھی ملازم رہائش سے محروم نہ رہے۔