سپریم کورٹ، والدین کے دوہرے قتل کیس میں عمر قید برقرار، دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے بھگتنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے والد اور والدہ کے دوہرے قتل کے مقدمے میں مجرم تیمور ستار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے بھگتی جائیں گی۔

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے والد اور والدہ کے دوہرے قتل کے مقدمے میں مجرم تیمور ستار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے بھگتی جائیں گی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر جیل پٹیشن نمبر 575/2018 مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے 10 فروری 2010 کو جائیداد اپنے نام منتقل نہ کرنے پر ناراضی کے باعث اپنے والد عبد الستار اور والدہ شمیم ستار کو گھر میں ہتھوڑے کے وار کرکے قتل کر دیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ نے اضافی عدالتی اعترافِ جرم، طبی شواہد، فرانزک رپورٹ، آلہ قتل اور خون آلود کپڑوں کی برآمدگی سمیت مضبوط قرائن کی بنیاد پر مقدمہ ثابت کیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم وقوعہ کے بعد دس روز تک مفرور رہا اور اس نے اپنے والد کے آجر اور شکایت کنندہ کو متضاد اور غلط معلومات فراہم کیں، جو اس کے خلاف ایک اہم قرینہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ اضافی عدالتی اعترافِ جرم کو کمزور شہادت سمجھا جاتا ہے، تاہم موجودہ مقدمے میں یہ دیگر شواہد سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔ مزید برآں ملزم نے اپنے دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے بیان میں بھی والدین کے قتل کا اعتراف کیا، جو استغاثہ کے شواہد کی تائید کرتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی جانب سے کوئی ایسا تخفیفی پہلو پیش نہیں کیا گیا جو نرمی کا جواز بنتا۔ اپنے ہی بے دفاع والدین کو گھر کے اندر بے رحمی سے قتل کرنا انتہائی سنگین اور معاشرتی اقدار کے منافی جرم ہے، جس کی سخت سزا ناگزیر ہے۔سپریم کورٹ نے جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دونوں عمر قید کی سزائیں متواتر طور پر بھگتی جائیں گی۔