سپریم کورٹ، کمپیٹیشن کمیشن کے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ سے متعلق مقدمے میں دائر نظرثانی درخواستیں مسترد

اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے کمپیٹیشن کمیشن کے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ سے متعلق مقدمے میں دائر 60 سے زائد نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت کے تحریری فیصلے میں درج ہدایات کو مبینہ زبانی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نظرثانی کا اختیار محدود نوعیت کا ہوتا ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے …

اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے کمپیٹیشن کمیشن کے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ سے متعلق مقدمے میں دائر 60 سے زائد نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالت کے تحریری فیصلے میں درج ہدایات کو مبینہ زبانی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نظرثانی کا اختیار محدود نوعیت کا ہوتا ہے۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 15 جنوری 2026 کو محفوظ کیا گیا مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تمام سول ریویو پٹیشنز خارج کر دیں۔ عدالت نے تاخیر سے دائر کی گئی درخواستوں میں 20 روزہ تاخیر معاف کرتے ہوئے انہیں قابلِ سماعت قرار دیا، تاہم میرٹ پر تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے چار رکنی بینچ میں چینی ملز کے خلاف کارروائی کے دوران اختلافی فیصلہ سامنے آیا تھا۔

چیئرپرسن نے ایک رکن سے اتفاق کرتے ہوئے ملز کو قصوروار قرار دیا اور جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر دو ارکان نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر معاملہ ازسرِنو انکوائری کے لیے بھیجنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں چیئرپرسن نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 24(5) کے تحت کاسٹنگ ووٹ استعمال کیا تاکہ تعطل ختم کیا جا سکے۔

متاثرہ فریقوں نے اس اقدام کے خلاف کمپیٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کیا جس نے 21 مئی 2025 کے فیصلے میں قرار دیا کہ عدالتی نوعیت کی کارروائی میں چیئرپرسن کو کاسٹنگ ووٹ کا اختیار حاصل نہیں لہٰذا 13 اگست 2021 کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 18 ستمبر 2025 کے فیصلے میں ٹربیونل کے اس مؤقف کو درست قرار دیا کہ کاسٹنگ ووٹ کا استعمال آئین کے آرٹیکل 10-اے کے منافی ہے، تاہم معاملہ مزید سماعت کے لیے ٹربیونل کو واپس بھیج دیا۔

نظرثانی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے مبینہ طور پر فریقین کے اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کیس ٹربیونل کو بھجوایا جبکہ اصل اتفاق کمیشن کو بھیجنے پر تھا۔ عدالت نے اپنے تازہ فیصلے میں قرار دیا کہ 18 ستمبر 2025 کے فیصلے میں کسی بھی قسم کے اتفاقِ رائے کا ذکر موجود نہیں اور عدالتیں اپنے تحریری فیصلوں کے ذریعے بولتی ہیں نہ کہ مبینہ زبانی بیانات کی بنیاد پر۔فیصلے میں کہا گیا کہ نظرثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے اور اسے اپیل کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا، اگر عدالت کسی معاملے پر شعوری اور واضح فیصلہ دے چکی ہو تو اسے محض اس بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اور مؤقف بھی ممکن تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کیس کو ٹربیونل کو واپس بھیجنا ایک باقاعدہ عدالتی فیصلہ تھا نہ کہ کوئی قلمی یا تکنیکی غلطی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مبینہ زبانی اتفاقِ رائے چونکہ فیصلے میں درج نہیں اور مخالف فریق اس کی تردید کرتے ہیں اس لیے یہ ایک متنازعہ سوالِ حقیقت بن جاتا ہے جسے نظرثانی دائرہ اختیار میں نہیں سنا جا سکتا۔عدالت نے تمام نظرثانی درخواستیں خارج کرتے ہوئے اخراجات سے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا اور فیصلے کو رپورٹنگ کے لیے منظور کر لیا۔