اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نامزد ملزم شفیق حسن کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی۔کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعی نے خود اپنے اوپر گولی چلائی اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا …
سپریم کورٹ ، قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نامزد ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نامزد ملزم شفیق حسن کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی۔کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعی نے خود اپنے اوپر گولی چلائی اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی شخص خود کو زخمی کرنا چاہے تو عام طور پر بازو یا ہاتھ پر گولی مارتا ہے، کوئی پاگل ہی ہوگا جو کولہے پر گولی مار کر مقدمہ درج کروائے۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا ملزم تفتیش میں شامل ہوا ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم آج تک تفتیش میں شامل نہیں ہوا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ایسے حالات میں یہ مقدمہ ضمانت قبل از گرفتاری کا نہیں بنتا۔دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ملزم شفیق حسن کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی۔








