اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی)سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کیس کی سماعت آج جمعرات کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ پرعدالت کو قانونی جواز، طریقہ کار پر پوری طرح عملدرآمد اوروجوہات بتائی جائیںیہ اہم ترین کیس ہے جس کوقانون اورآئین کے …
سپریم کورٹ ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کیس کی سماعت آج صبح تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 نومبر (اے پی پی)سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کیس کی سماعت آج جمعرات کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ پرعدالت کو قانونی جواز، طریقہ کار پر پوری طرح عملدرآمد اوروجوہات بتائی جائیںیہ اہم ترین کیس ہے جس کوقانون اورآئین کے مطابق حل ہوناچاہیے،] پوری قوم فوج کی عزت کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ معاملات کو سدھا ر کر عدالت میں لائے عدالت کسی کوتنگ کرنے کی خواہاں نہیں لیکن کوئی چیز غیرقانونی یاغلط ہے تو عدالت کو خود فیصلہ کرناپڑے گا، بدھ کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس مظہرعالم میاں خیل پرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی مدت ملازمت 28 نومبر کو رات بارہ بجے ختم ہورہی ہے جبکہ نوٹیفیکشن کے مطابق ان کی مدت ملازمت میں29 نومبر سے توسیع دی جارہی ہے اس حوالے سے عدالت کوبتایا جائے کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ ریٹاثرمنٹ کے فورًا بعد ہی ان کو ملازمت میںتین سال توسیع دی جائے جس پراٹارنی جنرل نے بتایاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میںتوسیع دینا ایک روایت ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے یعنی ریٹائرمنٹ اورتوسیع دونوں چیزین بیک وقت رونماہوں گی،28 نومبر کی رات بارہ بجے وہ ریٹائر ہوں گے اوراسی لمحہ سے دوبارہ بطورآرمی چیف اپنی کمانڈ سنبھا لیں گے یعنی اصل میں وہ ریٹائر ہی نہیں ہوں گے کیونکہ انہوں نے اپنی کمانڈ کسی کے سپرد ہی نہیں کی جس کی وجہ یہ ہے کہ آرمی کوبغیر سربراہ کے نہیں چھوڑا جاسکتا، اوران کی ریٹائرمنٹ تب ہی موثر ہوسکتی جب وہ اپنی کمانڈ کسی کے سپرد کرتا ہے جس کاایک باقاعدہ طریقہ کار ہے اوراس پر عمل کرناپڑتا ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ پہلے آپ خود اپنے مائنڈ کوواضح کریں اورہمیں بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں،کیونکہ آپ دونوں چیزوں پرپاﺅں رکھ رہے ہیں،ایک جانب آپ کے مطابق وہ ریٹائر ہورہے ہیں دوسری جانب کہتے ہیں کہ وہ ریٹائر ہی نہیں ہوئے ، اورتوسیع بھی لے لی، ہمیں بتایا جائے کہ کیا ریٹائر افسر کوبھی آرمی چیف لگایا جاسکتاہے تواٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہوتا ہو لیکن اب تک اس کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی ہے، فاضل جج کا کہنا تھاکہ جب ایک افسر بطور آرمی چیف ریٹائر ہوجاتاہے تواس کاآرمی سے تعلق ختم اوروہ ریٹائر افسر بن جاتا ہے ایسی صورت اگراس کی دوبارہ بطورآرمی چیف تقرری ہوگی تو وہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں بلکہ دوبارہ تقرری ہوگی ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں عدالت کویہی سمجھا نے کی کوشش کررہا ہوں کہ کہ اس کیس میںدر اصل ریٹائر ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی ،آرمی چیف ریٹائر ہوئے بغیر دوبارہ آرمی چیف کی ذمہ داریاں سنبھا لیں گے،یہ کام ماضی سے چلا آرہا ہے ، اور ایک روایت ہے ۔جسٹس منصور علی شاہ نے ان سے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب آرمی چیف 29 نومبر کوایک ریٹائر افسر ہوں گے تو پھرکس طرح انہیں آرمی چیف مقرر کیا جاسکتاہے قانون کے تحت ان کی مدت ملازمت میں توسیع توہوسکتی ہے لیکن ریٹائر ہونے کے بعد نہیں بلکہ وہ دوبارہ تقرری کہلائے گی، جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اس وقت تک ریٹائر نہیں ہوں گے جب تک اپنی کمانڈ کسی کے حوالے نہ کر دیں،, وہ 29 سے ریٹائر اوراسی روز سے دوبارہ آرمی چیف کے طورپرتعینات ہوں گے اور ان کے نوٹیفیکشن میںٹرمینیشن کالفظ شامل نہیں،کیونکہ آرمی کوبغیرسربراہ کے نہیں چھوڑا جاسکتا،یہ کمانڈ کاتسلسل ہے، فاضل جج نے ان سے کہاکہ اگر آرمی چیف ریٹائر نہیں ہورہا اوران کی توسیع کامعاملہ سامنے نہیں توہم سب یہاں کیوں موجود ہیں ، دوسری جانب جب آپ کوتوسیع دینے کا آئینی اختیارحاصل ہے توپھرروایات کی بات کیوں ہو، آ پ واضح کردیں کہ دوبارہ تقرری کی جارہی ہے جبکہ چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ کے مطابق قانون میں مدت کی وضاحت نہیں لیکن اب 29 نومبر سے تین سال کی توسیع کاآغازہورہا ہے اوریہاں ریٹائرمنٹ اورتوسیع دونوں چیزیں ساتھ سا تھ ملائی جارہی ہیںجودرست نہیں،اب بھی آپ کے پاس وقت ہے کہ اس معاملے میں درستگی کرلی جائے یہاں ایک باعزت آدمی کومصیبت میں ڈال دیا گیا، وزیراعظم نے دوبارہ تقرری کی سفارش کی اورآرٹیکل 243 کے تحت سمری بھی دوبارہ تقرری کی بات کی گئی لیکن نوٹیفکیشن میں توسیع کرنے کاکہا گیا ہے ہمارے پاس آئی تینوں ڈاکومنٹس میں جواستدعا کی گئی ہے وہ بھی مختلف ہے ، اس طرح تو نہیں ہونا چاہیے یہ تومعمول کے کام ہیں کوئی نئی چیز نہیں، کہ اس طرح کی غلطیاں ہوں،جن لوگوں نے یہ سمری بنائی ہیں ان کی ڈگریاں چیک کی جائیں،آئینی دفاتر میں ایسا نہیں ہوتا کل تک معاملہ درست کیاجائے ، کیونکہ ہم کسی کوتنگ نہیں کرناچاہتے لیکن اگرکوئی چیزغلط اورغیرقانونی ہے توہم اللہ کوجوابدہ ہیں ، پراسس صحیح ہونا چاہیے ورنہ کل کے بعد وقت ختم ہوجائے گااورپھرہمیں فیصلہ دیناپڑے گا ، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سابق وفاقی وزیر فروغ نسیم سے کہاکہ وہ صبح اپناکوئی معاون لاکر دلائل پیش کریں ۔








