سپریم کورٹ آف پاکستان کے وفد نے عالمی فورم پر آئینی انصاف سے متعلق پاکستان کے عزم کو اجاگر کر دیا

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی وفد نے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں منعقدہ ورلڈ کانفرنس آن کانسٹی ٹیوشنل جسٹس کی چھٹی کانگریس میں شرکت کے دوران آئینی انصاف، عدالتی خودمختاری اور بین الاقوامی عدالتی تعاون سے متعلق پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کے وفد میں جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس …

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی وفد نے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں منعقدہ ورلڈ کانفرنس آن کانسٹی ٹیوشنل جسٹس کی چھٹی کانگریس میں شرکت کے دوران آئینی انصاف، عدالتی خودمختاری اور بین الاقوامی عدالتی تعاون سے متعلق پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کے وفد میں جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔ کانگریس میں دنیا بھر کے 88 اعلیٰ عدالتی اداروں اور سپریم و آئینی عدالتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں جدید عدالتی نظام کو درپیش اہم چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کانگریس کے مختلف سیشنز میں پاکستانی ججز نے عدالتی آزادی، اختیارات کی تقسیم اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق مباحث میں فعال کردار ادا کیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بڑھتی ہوئی عوامی توقعات اور ادارہ جاتی دباؤ کے تناظر میں عدلیہ کا کردار مزید اہم ہو چکا ہے۔اجلاس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے عدالتی نظام میں استعمال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ڈیجیٹل ٹولز عدالتی امور میں تیزی اور بہتری لا سکتے ہیں تاہم ان کا استعمال آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے اور یہ انسانی عدالتی فہم، منصفانہ سماعت اور قانون کے سامنے مساوات کا متبادل نہیں بن سکتے۔

کانگریس کے موقع پر پاکستانی ججز نے فلسطین اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے عدالتی وفود سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ترک وفد سے ہونے والی گفتگو میں قومی سلامتی اور آئینی آزادیوں کے درمیان توازن کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ کیا گیاجو پاکستان اور ترکی کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا بھی مظہر ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کی اس عالمی فورم میں شرکت کو آئینی بالادستی، عدالتی اصلاحات اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا گیا۔ کانگریس سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات مستقبل میں ملکی عدالتی نظام کی بہتری میں معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔

 

مزید خبریں