سپریم کورٹ میں جائیداد کے تنازع پر باپ کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد

سپریم کورٹ نے جائیداد کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کرنے والے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جائیداد کے تنازع پر اپنے والد کو قتل کرنے والے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے جاری کیا۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مجرم غلام مصطفیٰ نے جولائی 2020میں سوتے ہوئے اپنے اہل خانہ پر ٹوکے سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے 70 سالہ والد غلام محمد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے جائیداد کے تنازع پر اپنے والد کو بے دردی سے قتل کیا جبکہ مداخلت کرنے پر اپنی سوتیلی والدہ اور بہن بھائیوں کو بھی شدید زخمی کر دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چار عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں اور میڈیکل شواہد و پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی زخمی گواہوں کے بیانات کی مکمل تائید کرتی ہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ نہتے والد پر سوتے ہوئے حملہ کرنا جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے اور جائیداد کے لیے اپنوں کا خون بہانے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے بھی مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ کیس کی سماعت کے دوران مدعی کی جانب سے وکیل فہیم اختر گل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔