اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے اہم مقدمے میں ملزم رفعت حسین کی سزائے عمر قید برقرار رکھتے ہوئے کریمنل پٹیشن کو مسترد کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اسحاق ابراہیم کی معیت میں سنایا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق واقعہ یکم اگست 2003 …
سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کیس میں عمر قید برقرار رکھتے ہوئے دونوں فوجداری درخواستیں مسترد کر دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے اہم مقدمے میں ملزم رفعت حسین کی سزائے عمر قید برقرار رکھتے ہوئے کریمنل پٹیشن کو مسترد کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اسحاق ابراہیم کی معیت میں سنایا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق واقعہ یکم اگست 2003 کو پیش آیا تھا جب ملزم رفعت حسین اور اس کا ساتھی غلام عباس ہوٹل پر فائرنگ کرکے محمد اشفاق اور ذیاءالحق کو قتل کرنے کے الزام میں نامزد ہوئے۔ غلام عباس دورانِ مقابلہ مارا گیا تھا جبکہ رفعت حسین 9 سال تک مفرور رہا اور 2012 میں گرفتار ہوا۔مقدمے میں مبینہ محرک یہ تھا کہ مقتول اشفاق کی سابق منگنی ختم ہونے کے بعد لڑکی کی منگنی ملزم رفعت سے کر دی گئی جس پر مقتول مزاحمت کر رہا تھا۔ع
دالت نے قرار دیا کہ شریک مقدمہ میں بیان دینے والا شکایت کنندہ عبدالرحمن بعد ازاں فوت ہو چکا تھاتاہم اس کا بیان شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 47 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت قابلِ قبول ہے۔ملزم کا مفرور رہنا اس کے اپنے فعل کا نتیجہ ہےاس لیے وہ اس بنیاد پر فائدہ نہیں اٹھا سکتا کہ اسے پہلی کارروائی میں گواہ پر جرح کا موقع نہیں ملا۔ایف آئی آر بروقت درج ہوئی اور ملزم کی نامزدگی واضح تھی۔عینی شہادت، میڈیکل شواہد، اسلحہ کی برآمدگی اور طویل مفروری ملزم کے خلاف مضبوط ثبوت ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ نے مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کیا۔
ہائیکورٹ کی جانب سے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔عمر قید کی دونوں سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔مزید برآں مدعیہ کی جانب سے سزا بڑھانے کی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ موجودہ حالات میں سزا میں اضافہ کے لیے کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔








