سپریم کورٹ نے ساٹھ برس پرانا دعویٰ قبل از حق شفعہ بدنیتی اور ملی بھگت پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے زرعی اراضی کے ایک تقریباً ساٹھ سال پرانے حق شفعہ کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور مدعی کا دعویٰ مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے زرعی اراضی کے ایک تقریباً ساٹھ سال پرانے حق شفعہ کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور مدعی کا دعویٰ مسترد کر دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سول اپیل نمبر 756/L/2012 کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مدعی نے اپنے طرز عمل سے حق شفعہ ترک کر دیا تھا اور یہ مقدمہ درحقیقت فروخت کنندہ اور مدعی کے مابین ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضلع قصور کے گائوں راجہ جنگ میں واقع 151 کنال 11 مرلہ زرعی اراضی 17 جولائی 1967ء کو مدعی کے والد نے رجسٹرڈ بیع نامے کے ذریعے فروخت کی۔ مدعی نے فروخت کے تقریباً ایک سال بعد آخری دن حق شفعہ کا دعویٰ دائر کیا۔ سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مدعی نہ صرف فروخت کے تمام مراحل سے باخبر تھا بلکہ والد کے ساتھ ایک ہی گھر میں مقیم بھی تھا، اس کے باوجود اس نے نہ فروخت کے وقت اور نہ ہی رجسٹری کے موقع پر اپنا حق استعمال کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ فروخت سے مکمل آگاہی کے باوجود خاموشی اختیار کرنا، لین دین کی تکمیل کی اجازت دینا اور خریداروں کو اس پر عملدرآمد کرنے دینا حق شفعہ سے دستبرداری (Waiver) کے مترادف ہے۔

اس طرح مدعی بعد ازاں دعویٰ دائر کرنے کا مجاز نہیں رہا۔فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شواہد کا مجموعی جائزہ لینے کے بجائے محض مدعی کی موجودگی کو غیر موثر قرار دے کر قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا جو واضح قانونی غلطی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید آبزرویشن دی کہ حق شفعہ ایک کمزور اور ’’پائریٹیکل‘‘ حق ہے اور ایسے دعوے اکثر قریبی رشتہ داروں کے ذریعے بدنیتی اور ملی بھگت سے دائر کیے جاتے ہیں۔

عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدعی نے اس مقدمے کو ساٹھ برس تک مختلف عدالتوں میں گھسیٹ کر عدالتی وقت کا ضیاع کیا اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔عدالت نے اس رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرائل کورٹس پر زور دیا کہ وہ جھوٹے، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی مقدمات کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جا سکے۔عدالت نے فریقین کو اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔