سپریم کورٹ نے ملک میں انصاف تک رسائی کو مزید موثر اور ہمہ گیر بنانے کے لیے بار قیادت کے ساتھ مشترکہ اصلاحات کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ملک میں انصاف تک رسائی کو مزید موثر اور ہمہ گیر بنانے کے لیے بار قیادت کے ساتھ مشترکہ اصلاحات کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان بار کونسل ،صوبائی بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ملک میں انصاف تک رسائی کو مزید موثر اور ہمہ گیر بنانے کے لیے بار قیادت کے ساتھ مشترکہ اصلاحات کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان بار کونسل ،صوبائی بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں قانونی معاونت، خواتین کے لیے سہولیات اور ضلعی سطح پر لیگل ایمپاورمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد مسعود چشتی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی منیر احمد ملک، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ، سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اشتیاق احمد میمن اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز حسین ٹنیو، خیبرپختونخوا بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ملک عماد اعظم، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جدین دشتی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز خان مندوخیل، اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری آصف عرفان اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی محمد ظفر کھوکھر جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ملک زاہد اسلم اعوان نے ورچوئل شرکت کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید الرشید اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آ ف پاکستان کے سیکرٹری بھی موجود تھے۔

اجلاس میں ضلعی لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز (DLECs) کو موثر بنانے، منظم اور مربوط مفت قانونی معاونت کی توسیع اور عدالتی نظام کو شہری دوست اور جامع بنانے کے لیے ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کو ادارہ جاتی شکل دینے پر تفصیلی غور کیا گیا، بالخصوص خواتین، کمزور طبقات اور پسماندہ برادریوں کی سہولت کے تناظر میں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے شرکا کو 2025-26 کے اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس کے تحت چار ترجیحی شعبوں کے لیے ملک بھر میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں، عدالتی عمارتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریریوں کا قیام، خواتین کے لیے مخصوص سہولتی مقامات کی ترقی، اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی شامل ہے ۔

یہ سہولیات بینچ اور بار دونوں کو فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی تکمیل اگست 2026ء کے اختتام تک متوقع ہے۔سال 2026-27 کے لیے اصلاحاتی حکمت عملی میں ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کی اپ گریڈیشن اور استحکام کو ترجیح دی جائے گی جسے بار نمائندگان نے متفقہ طور پر سراہا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بار کونسلز کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت قانونی معاونت کو ضلعی لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ ہم آہنگی، استعداد اور رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جہاں بار کونسلز کی جانب سے نامزد پروبونو وکلاء ایک منظم کال بیسڈ نظام کے تحت قانونی رہنمائی فراہم کریں گے۔ مجوزہ فریم ورک بار کونسلز سے مشاورت کے لیے شیئر کیا جائے گا۔پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے چیف جسٹس نے بتایا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی جانب سے نوجوان وکلاء کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے دس ماڈیولز پر مشتمل آن لائن بار ووکیشنل کورس تیار کیا جا رہا ہے جو مئی 2026ء کے پہلے ہفتے میں آن لائن دستیاب ہوگا۔

مزید برآں مختلف قانونی شعبہ جات میں قوانین کے جائزے کے لیے بار کی نمائندگی کے ساتھ مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ جامع، مشاورتی اور مستقبل پر مبنی قانون سازی کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بینچ اور بار باہمی تعاون سے انصاف تک رسائی، قانونی بااختیاری، اور ایک مؤثر، خودمختار اور جامع نظامِ انصاف کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔