اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے مرحوم ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت کے لیے دی گئی درخواستوں پر فیصلہ درخواست کے وقت نافذ پالیسی کے مطابق کیا جائے گا ، بعد میں آنے والے عدالتی فیصلے یا نئی پالیسیاں ماضی کے زیرِ التوا معاملات پر لاگو نہیں ہو سکتیں۔سپریم کورٹ کی …
سپریم کورٹ کا مرحوم ملازمین کے بچوں کی ملازمت کی درخواستیں پرانی پالیسی کے تحت نمٹانے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے مرحوم ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت کے لیے دی گئی درخواستوں پر فیصلہ درخواست کے وقت نافذ پالیسی کے مطابق کیا جائے گا ، بعد میں آنے والے عدالتی فیصلے یا نئی پالیسیاں ماضی کے زیرِ التوا معاملات پر لاگو نہیں ہو سکتیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے نے سول پٹیشن نمبر 1242-کے/2024 کی سماعت کے بعد سنایا۔
درخواست گزار ایاز علی اور اسداللہ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کی آئینی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کے والدین نیشنل بینک میں افسر گریڈ میں ملازم تھے اور دورانِ ملازمت انتقال کر گئے۔ ایاز علی کے والد کا انتقال 11 نومبر 2019 کو ہوا جس کے بعد انہوں نے 27 نومبر 2019 کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت کے لیے درخواست دی۔
اسی طرح اسداللہ کے والد 28 دسمبر 2021 کو انتقال کر گئے اور انہوں نے 14 فروری 2022 کو ملازمت کے لیے درخواست جمع کرائی۔ تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بینک انتظامیہ نے ان درخواستوں پر نہ کوئی فیصلہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کی باضابطہ اطلاع دی۔درخواست گزاروں نے اس رویے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے جنرل پوسٹ آفس بنام محمد جلال (PLD 2024 SC 1276) کی بنیاد پر درخواست مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ فیصلہ مستقبل کے لیے ہے اور اس کا اطلاق ماضی کے زیرِ التوا معاملات پر نہیں ہو سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی فیصلے اصولاً مستقبل میں نافذ ہوتے ہیں جب تک واضح طور پر انہیں ماضی پر لاگو نہ کیا جائے۔ چونکہ درخواست گزاروں نے اُس وقت ملازمت کے لیے درخواستیں دی تھیں جب نیشنل بینک آف پاکستان کی 2011 کی پالیسی نافذ تھی، اس لیے ان کی درخواستوں کا جائزہ اسی پالیسی کے مطابق لیا جانا چاہیے تھا۔
عدالت نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ درخواستیں برسوں تک بغیر کسی فیصلے کے زیرِ التوا رکھی گئیں جو انتظامی نااہلی اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق اگر کوئی ادارہ فائدہ مند ملازمت پالیسی جاری کرتا ہے تو اس پر مساوی اور منصفانہ طریقے سے عملدرآمد لازم ہے، نہ کہ من پسند افراد کو فائدہ پہنچایا جائے۔
سپریم کورٹ نے سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ نیشنل بینک کے صدر کو واپس بھجوا دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی 2019 اور 2022 میں جمع کرائی گئی درخواستوں کا جائزہ اُس وقت نافذ پالیسی کے مطابق لیا جائے اور تین ماہ کے اندر اندر فیصلہ کر کے درخواست گزاروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔








