سپریم کورٹ کا ورلڈ کال ٹیلی کام کے حق میں فیصلہ ، ایف بی آر کی اپیلیں مسترد

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ورلڈ کال ٹیلی کام لمیٹڈ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کر دیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلہ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹیکس سال 2004 اور 2005 میں کمپنی اپنے فرنچائزیز سے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کرنے کی پابند نہیں تھی کیونکہ اس وقت خریدار (صارف) کی …

اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ورلڈ کال ٹیلی کام لمیٹڈ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کر دیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلہ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹیکس سال 2004 اور 2005 میں کمپنی اپنے فرنچائزیز سے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کرنے کی پابند نہیں تھی کیونکہ اس وقت خریدار (صارف) کی شناخت ہی موجود نہیں تھی۔

جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے، نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قانون کی شق 236 کے تحت ایڈوانس ٹیکس صرف اسی وقت لاگو ہو سکتا ہے جب وہ کسی مخصوص ٹیکس دہندہ کے نام پر وصول کیا جائے، یعنی وہ شخص جسے بعد میں اپنی ٹیکس ریٹرن میں اس رقم کا کریڈٹ ملنا ہو۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر کسی موقع پر ٹیکس وصول کیا جائے لیکن اس شخص کی شناخت ہی ممکن نہ ہو جسے اس ادائیگی کا فائدہ ملے گا، تو ایسی رقم "ایڈوانس انکم ٹیکس” نہیں کہلا سکتی بلکہ یہ "محض رقم کی جبری وصولی” کے مترادف ہوگی جو قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔

عدالت نے کہا کہ اس مقدمے میں ایف بی آر کا موقف یہ تھا کہ ورلڈ کال اپنے فرنچائزیز سے "پری پیڈ کارڈز” کی فروخت کے وقت ایڈوانس ٹیکس وصول کرنے کی پابند تھی تاہم ریکارڈ سے واضح ہوا کہ وہ کارڈز دراصل "پے فون یونٹس” کی شکل میں تھے جنہیں صارف کال کرنے کے وقت استعمال کرتا تھا۔ اس وقت صارف کی شناخت ہی نہیں ہوتی تھی، اس لیے ٹیکس وصولی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

جسٹس منیب اختر نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ایڈوانس ٹیکس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس شخص سے ٹیکس وصول کیا جائے، وہی اس کا فائدہ بعد میں اپنی ٹیکس ریٹرن میں حاصل کر سکے۔ اگر ایسا شخص موجود نہیں یا شناخت شدہ نہیں، تو ایسی وصولی غیر قانونی تصور ہوگی۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حقائق کی غلط تشریح کی اور ٹربیونل کا فیصلہ درست تھا جس نے ورلڈ کال کے حق میں اپیل منظور کی تھی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹیکس قانون کی شق 161 کے تحت کسی ادارے کو "ڈیفالٹر” قرار دینا ایک سنگین قانونی نتیجہ رکھتا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں قانون کی تشریح ہمیشہ سختی اور احتیاط سے کی جانی چاہیے۔سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی تمام چار آئینی درخواستیں خارج کرتے ہوئے ورلڈ کال ٹیلی کام لمیٹڈ کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید خبریں