سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلے کا آنا بروقت اور مناسب اقدام ہے ،پاکستان کو بے یقینی کی صورت میں رکھنا ملک کے مفاد میں نہیں تھا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان

اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلے کا آنا بروقت اور مناسب اقدام ہے ، پاکستان کو بے یقینی کی صورت میں رکھنا ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔جمعرات کو اپنے ایک بیان …

اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلے کا آنا بروقت اور مناسب اقدام ہے ، پاکستان کو بے یقینی کی صورت میں رکھنا ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت جو ہماری مشرقی سرحد اور خطے کی صورتحال ہے اس تناظر میں ہمارے سپاہ سالار کا مسئلہ اگر عدالت میں لٹکا رہے تو وہ مناسب نہیں تھا اس لیے تو اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ درست بروقت اور مناسب فیصلہ ہے۔جہاں تک توسیع یا تعیناتی کا تعلق ہے تو آئین اس پر بڑا واضح ہے۔آرٹیکل 243 چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم کو اختیار دیتا ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایگزیکٹو فنکشن ہے۔یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے اس معاملے پر پارلیمنٹ اپنی رائے دے چکی ہے وہ لوگ جنہوں نے آئین مرتب کیا وہ اپنی رائے دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عدلیہ کی معاونت کی۔ جو سوالات انہوں نے اٹھائے ہم نے ان کے جوابات دیے۔یہ پارلیمنٹ کی خودمختاری کا بھی مسئلہ ہے اس پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز وکیل اعتزاز احسن اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔عدلیہ کی طرف سے اس سلسلے میں جو قانونی اور طریقہ کار کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ان پر ہم نے کابینہ میں مشاورت کے بعد اپنا واضح موقف بھی ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔آئین میں تبدیلی کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے مگر یہاں آئین میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے ، آئین اس حوالے سے بڑا واضح ہے۔ماضی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے لیگل ٹیم میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی – ہاں آرمی رولز ریگولیشنز میں اگر کوئی تبدیلی درکار ہے تو اسے دیکھا جا سکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدالت نے ایک فیصلہ دیا ہے جس کا ہم از حد احترام کرتے ہیں وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ اس کا جائزہ لے گی اور ہم ایسا کوئی پہلو نہیں چھوڑیں گے جس سے دشمنوں کو بغلیں بجانے کا موقع ملے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ معاملہ ہمارا اندرونی ہے مگر ہندوستان میں شادیانے کیوں بج رہے تھے کیونکہ وہ پاکستان میں عدم استحکام دیکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں ہمیں اس حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے ہم نے ہمیشہ ان سے یہی کہا ہے کہ ملک میں استحکام اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے مضبوط حکومت کے ساتھ ساتھ مضبوط اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے،تعمیری تنقید سے نہ ہم کبھی گھبرائے ہیں نہ گھبرائیں گے۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس معاملے پر اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر جب ان سے بات چیت ہو گی تو ان کا رویہ مثبت ہو گا۔سویلین سپریمیسی کے حوالے سے بھی مجھے کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیتا۔