اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارہ جاتی سالمیت، نظم و ضبط اور مقررہ طریقہ کار کی خاص طور پر سرکاری طرز عمل اور انصاف کی انتظامیہ سے متعلق معاملات میں سختی سے تعمیل ناگزیر ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ اسٹیبلشمنٹ سروس رولز، 2015 کے تحت مکمل …
سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری کے تین ، لاہور کے ایک افسر کے خلاف تادیبی کارروائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارہ جاتی سالمیت، نظم و ضبط اور مقررہ طریقہ کار کی خاص طور پر سرکاری طرز عمل اور انصاف کی انتظامیہ سے متعلق معاملات میں سختی سے تعمیل ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ اسٹیبلشمنٹ سروس رولز، 2015 کے تحت مکمل ہونے والی تادیبی کارروائی میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ برانچ رجسٹری، کراچی کے تین افسران پر انتظامی ردعمل میں سنگین کوتاہیوں پر بڑے جرمانے عائد کیے، جن میں تاخیر سے رپورٹنگ، بروقت تحریری ہدایات حاصل کرنے میں ناکامی اور ڈیجیٹل دستیاب رزلٹ کو دوبارہ ترتیب دینے میں تاخیر پر ادارہ جاتی تشویش شامل ہیں۔
اسی طرح اینٹی کرپشن ہاٹ لائن پر رپورٹ کیے گئے ایک الگ معاملے میں سپریم کورٹ برانچ رجسٹری، لاہور کے ایک افسر کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ایک بڑا جرمانہ عائد کیا گیا۔سپریم کورٹ نے زور دیا ہے کہ اگرچہ عملے کے ارکان کی فلاح و بہبود اور کیریئر میں ترقی ایک ترجیح ہے لیکن اس کے باوجود شفافیت اور قائم شدہ طریقہ کار کی تعمیل عدالتی اداروں کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔








