اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آم کے ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل حل کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کے غیر تسلی بخش جواب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر یہ مسئلہ حل کرکے انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔ منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی آم کے ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل 24 گھنٹے کے اندر حل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جون (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آم کے ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل حل کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کے غیر تسلی بخش جواب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر یہ مسئلہ حل کرکے انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔ منگل کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء سمیت اپوزیشن کے ارکان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں بارڈر پر آم کے ایکسپورٹرز کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ سپیکر نے کہا کہ آم کی برآمدات پر مسائل کو حل کرنے کے لیے وزرات داخلہ کا جواب تسلی بخش نہیں ہے۔ سپیکر نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ24 گھنٹوں میں مسائل کو حل کر کے جواب دیا جائے۔ سپیکر نے کہا کہ آم کی ایکسپورٹ کے لیے بر وقت فیصلہ نہ کیا گیا تو ملک کا نقصان ہوگا۔گزشتہ چھ سال سے پاکستان کی برآمدات کم ہو رہی ہیں۔ ایکسپورٹرز نے کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ ہمیں آم باہر بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم پوری دنیا میں آم کو ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کے ذریعے آم کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے نرخوں میں رعایت دینے کی ضرورت ہے۔ شہری ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے بتایا کہ ہم ایک 777 جہاز خاص طور پر آم کو بھیجنے کے مختص کر رہے ہیں۔ نرخوں میں جتنا ممکن ہوسکا کمی کریں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے زراعت میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔ آپ کسانوں کی آواز بنے ہیں۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ میں کسی بھی صورت کسانوں کا استحصال برداشت نہیں کروں گا۔








