اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلم امہ کو درپیش مسائل کا حل اتحاد بین المسلمین میں مضمر ہے، پارلیمانی سطح پر رابطوں کے فروغ سے پاکستان اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے مزید قریب لایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے جمعرات کو …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے سعودی عرب کے سفیر کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مسلم امہ کو درپیش مسائل کا حل اتحاد بین المسلمین میں مضمر ہے، پارلیمانی سطح پر رابطوں کے فروغ سے پاکستان اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے مزید قریب لایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور زیربحث آئے۔سپیکر اسد قیصر نے سعودی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ اپنی لازوال دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک مذہب ، ثقافت اور تاریخ کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی کسی بھی کوشش کو پاکستان کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ سعودی عرب کا پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ہمیشہ مخلصانہ کردار ا رہا ہے جس پوری قومی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔سپیکر نے کہا کہ امت مسلمہ اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے جس کے لئے مسلم امہ کی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا اور اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار رکھنے کی خواہش رکھتا ہے پاکستان تمام تر تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں اور دونوں ممالک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اسپیکر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے مابین حالیہ رابطے کا خیرمقدم کیا۔قومی اسمبلی اور سعودی شوریٰ کونسل کے مابین پارلیمانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ وفود کا تبادلہ دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سپیکر نے دونوں ممالک کے مابین وسیع اقتصادی مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو وسعت دینے میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے سعودی سفیر سے کہا کہ وہ سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کو مراعات کے لئے اپنی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھائیں جو اس وقت لیبر قوانین میں نظر ثانی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے چھوٹے جرائم میں سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کو رہا کرنے پر سعودی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ سپیکر نے چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل اور امام کعبہ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔سعودی سفیر نواف بن سعد المالکی نے کہا کہ سعودی عرب بھی پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے ایک مخلص دوست اور بھائی سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین دوستی مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے اسپیکر کو یقین دلایا کہ سعودی عرب پاکستان میں تمام شعبوں میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ لیبر کے نئے قوانین سے سعودی عرب میں کام کرنے والے تارکین وطن کو فاہدہ ہوگا۔ انہوں نے اسپیکر کو یقین دلایا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کے دعوت نامے چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل اور امام کعبہ کو پہنچائیں گے۔








