لاہور۔15 اگست (اے پی پی )پاکستانمسلم لیگ (ن) کا اہم غیر رسمی مشاورتی اجلاس جاتی امراءرائے ونڈ میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی تنظیم سازی ،حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب ،پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،سپیکرقومی اسمبلی سردار …
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور سینیٹر آصف کرمانی کی رائے ونڈ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔15 اگست (اے پی پی )پاکستانمسلم لیگ (ن) کا اہم غیر رسمی مشاورتی اجلاس جاتی امراءرائے ونڈ میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی تنظیم سازی ،حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب ،پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق ،حمزہ شہباز، خواجہ محمد آصف،احسن اقبال، زاہد حامد، پرویز رشید، انوشہ رحمان ،سینیٹر آصف کرمانی اوررانا مقبول سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں نواز شریف کی آئندہ کی سر گرمیوںبارے بھی تبادلہ خیال ہوا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلہ میں رہنماﺅں اور کارکنو ں کی مزید مشاورت سے حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔اس موقع پر پارٹی کی تنظیم سازی بارے بھی گفتگو ہوئی جبکہ حلقہ این اے 120کی انتخابی مہم کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز پر بھی غوروخوض کیا گیا ۔اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر درست سمت میں گامزن کر دیا ہے ،عوام کی خدمت مشن ہے اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اسے آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران عوام نے جس طرح محبت اور پذیرائی دی اسے فراموش نہیں کر سکوں گا ، پاکستان اور عوام کی ترقی کے ایجنڈے کوہر صورت آگے بڑھائیں گے۔اجلاس کے بعد سردار ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا پاکستان نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ سابق وزیر اعظم دوستوں اور عوام کے مطالبے پر جی ٹی روڈ کے راستے سے لاہور آئے تھے اور ان کو جو پذیرائی ملی وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف میرے دل میں ابھی تک وزیراعظم ہیں اسی لیے نواز شریف کے لیے میرے منہ سے بار بار وزیراعظم ہی نکلتا ہے۔








