سہولت کاری کے عمل کے دوران شفافیت کویقینی بنانے ، پالیسیوں اور طریقہ کار کے مطابق ضروری اقدامات کررہی ہے، وفاقی وزیرڈاکٹرطارق فضل چوہدری اوروزیرمملکت بلال اظہرکیانی کاقومی اسمبلی میں جواب

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے عمل کے دوران شفافیت کویقینی بنانے اورمفادات کے ٹکراؤ کی روک تھام کے حوالہ سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل مروجہ قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کے مطابق ضروری اقدامات کررہی ہے۔ایس آئی ایف سی کے ذریعہ ملک میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کے منصوبوں اورمعاہدوں پرکام جاری ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے عمل کے دوران شفافیت کویقینی بنانے اورمفادات کے ٹکراؤ کی روک تھام کے حوالہ سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل مروجہ قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کے مطابق ضروری اقدامات کررہی ہے۔ایس آئی ایف سی کے ذریعہ ملک میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کے منصوبوں اورمعاہدوں پرکام جاری ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سیدہ شہلارضا کے سوال پروفاقی وزیرپارلیمانی امورڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے ایوان کوبتایا کہ سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے عمل کے دوران شفافیت کویقینی بنانے اورمفادات کے ٹکراؤ کی روک تھام کے حوالہ سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل مکمل طور پر آگاہ ہے اور مروجہ قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کے مطابق ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی بنیادی طور پر ملکی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کی سہولت کاری کرتی ہے اور سنگل ونڈو کے طور پر کام کرتی ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ کی روک تھام اور شفافیت کے فروغ کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ مزید برآں، متعلقہ وزارتیں اس امرکویقینی بناتی ہیں کہ تمام سرمایہ کاری مروجہ قوانین و ضوابط کے مطابق ہو۔انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے نظام اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایس آئی ایف سی کے ذریعے آسان کاروبار پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن اقدامات،سرمایہ کاری پالیسی 2023اور نظر ثانی شدہ ویزا پالیسی سمیت کئی پالیسی اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی کے زریعہ ملک میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کے منصوبوں اورمعاہدوں پرکام جاری ہے۔

شرمیلا فاروقی کے سوال پروزیرمملکت خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہاکہ ایس آئی ایف سی حکومت کاحصہ ہے،یہ ادارہ سرمایہ کاری میں سہولیات کے حوالہ سے تاجروں اورسرمایہ کاروں کے ساتھ رابطہ کاری میں بھی اہم کرداراداکررہاہے،ایس آئی ایف سی کی اپیکس کمیٹی بھی موجودہے،کوئی بھی حکومتی فیصلہ کابینہ کی منظوری سے آگے بڑھتاہے۔مرزااختیاربیگ کے ضمنی سوال پروزیرمملکت نے ایوان کوبتایاکہ ایس آئی ایف سی نے اپنے آپ کوشعبہ جاتی اندازمیں منظم کیاہے،گرین پاکستان انیشیئیٹو میں ایس آئی ایف سی وزارت قومی غذائی تحفظ اورصوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کررہی ہے، اسی طرح ریکوڈک منصوبہ میں وزارت پیٹرولیم اوروزارت ریلوے کے ساتھ مصروف عمل ہے۔