کیلی فورنیا۔9دسمبر (اے پی پی):امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ سہ پہرکے بعد کھانا کھانے کے صحت پر مضر اثرات ہو سکتا ہے جبکہ رات کو دیر سے کھانا کھانا ذیا بیطس کے امکانات میں خطرناک حد تک اضافہ کرسکتا ہے۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وقتی فاقوں والی ڈائٹ کے لیے کچھ سائنسی ثبوت فراہم کر سکتے ہیں …
سہ پہرکے بعد کھانا کھانے کے صحت پر مضر اثرات ہو سکتا ہے،امریکی ماہرین صحت

مزید خبریں
کیلی فورنیا۔9دسمبر (اے پی پی):امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ سہ پہرکے بعد کھانا کھانے کے صحت پر مضر اثرات ہو سکتا ہے جبکہ رات کو دیر سے کھانا کھانا ذیا بیطس کے امکانات میں خطرناک حد تک اضافہ کرسکتا ہے۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وقتی فاقوں والی ڈائٹ کے لیے کچھ سائنسی ثبوت فراہم کر سکتے ہیں جس میں شام کے بعد کھانے کو منع کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 فی صد امریکی وقتی فاقوں کو بطور ڈائٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقے کو سراہنے والے عموماً چھ گھنٹے کے دورانیے (صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک) میں کھانا کھاتے ہیں اور غذا کا زیادہ تر حصہ دن کے ابتدائی وقت میں لیتے ہیں۔
تحقیق کی ایک شریک مصنفہ ڈاکٹر ڈیانا ڈیاز رِزولو نے کہا کہ گلوکوز کو تحلیل کرنے کی جسم کی صلاحیت رات کے وقت محدود ہوتی ہے کیوں کہ انسولین کا اخراج کم ہو جاتا ہے اور سرکاڈین ردم (جسم کی اندرونی گھڑی) کے سبب اس ہارمون کی جانب ہمارے خلیوں کی حساسیت کم ہوجاتی ہے۔ایک جدید تحقیق میں 50 سے 75 برس کے درمیان 26 لوگوں کا مطالعہ کیا گیا جن کا یا تو وزن زیادہ تھا یا پھر وہ مٹاپے اور پری ڈائیبیٹیز یا ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا تھے۔
ان لوگوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ، جلدی کھانے والے اور دیر سے کھانے والے۔انہیں ایک جیسی خوراک، ایک مقدار میں لیکن مختلف اوقات میں دی گئی۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ لوگ جنہوں نے شامل 5 بجے کے بعد زیادہ کھایا تھا ان میں گلوکوز ٹیسٹ کے بعد گلوکوز کی سطح زیادہ پائی گئی۔








