سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فیصلے کا اختیار چند لوگوں کو نہیں بلکہ اس جماعت کے کارکنوں کو حاصل ہے ‘وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق

سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فیصلے کا اختیار چند لوگوں کو نہیں بلکہ اس جماعت کے کارکنوں کو حاصل ہے ، وقت کی پکار کو سنیں‘ جمہور کی آواز سنیں‘ پارلیمنٹ مائنس کرنے کا مل کر مقابلہ کر ے‘ ایسے قانون بنانے سے گریز کریں جو پاکستان میں جمہوریت کو نہ پنپنے دے‘وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اسلام آباد۔ 21 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد …

سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فیصلے کا اختیار چند لوگوں کو نہیں بلکہ اس جماعت کے کارکنوں کو حاصل ہے ، وقت کی پکار کو سنیں‘ جمہور کی آواز سنیں‘ پارلیمنٹ مائنس کرنے کا مل کر مقابلہ کر ے‘ ایسے قانون بنانے سے گریز کریں جو پاکستان میں جمہوریت کو نہ پنپنے دے‘وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد۔ 21 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فیصلے کا اختیار چند لوگوں کو نہیں بلکہ اس جماعت کے کارکنوں کو حاصل ہے‘ چند لوگوں کو 21 کروڑ کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیں گے‘ وقت کی پکار کو سنیں‘ جمہور کی آواز سنیں‘ پارلیمنٹ مائنس کرنے کا مل کر مقابلہ کریں‘ ایسے قانون بنانے سے گریز کریں جو پاکستان میں جمہوریت کو نہ پنپنے دے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ غاضب مشرف نے بے نظیر اور نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے لئے جبراً اس کو قانون کا حصہ بنایا ہم اس تجاوزات کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ یہ کام آج نہیں 2014ءمیں شروع ہوا۔ پھر اچانک مزاج بدلے‘ انداز بدلے یا کسی کے کہنے پر یہ کرنے جارہے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کا فیصلہ اس کے کارکن کریں گے۔ چند لوگوں کو 21 کروڑ کے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیں گے۔ یہ وہ جنگ ہے ہم نے ہی نہیں پیپلز پارٹی ‘ ایم کیو ایم‘ جماعت اسلامی نے لڑی ہے۔ یہ جمہوریت کی جنگ ہے۔ ملک میں جمہوریت کو آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا ہے۔ ہمارے آباﺅ اجداد نے اس کے لئے اپنی جانیں دیں۔یہ وقت ہم سے پہلے بی بی پر آیا۔ انہوں نے بہت بھگتا اب ہم بھگت رہے ہیں۔ وقت کی پکار کو سنیں‘ جمہور کی آواز سنیں‘ پارلیمنٹ مائنس کرنے کا مل کر مقابلہ کریں۔ ایسے قانون بنانے سے گریز کریں جو پاکستان میں جمہوریت کو نہ پنپنے دے۔

Leave a Reply