سیالکوٹ ،ستمبر1965میں چونڈہ کے محاذ پرٹینکوں کی ایک بڑی جنگ لڑی گئی جس میں شہریوں نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا

سیالکوٹ۔5ستمبر (اے پی پی):ملک بھر کی طرح سیالکوٹ میں بھی ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ 1965 کی جنگ میں بہادری اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔اس دن ملک بھر میں فوجی پریڈز، پرچم کشائی، یادگار شہداءپر سلامی اورتقریبات کا انعقادکیا جاتا ہے۔رواں سال یومِ دفاع کا دن عید میلاد النبی ﷺ کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، یعنی …

سیالکوٹ۔5ستمبر (اے پی پی):ملک بھر کی طرح سیالکوٹ میں بھی ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ 1965 کی جنگ میں بہادری اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔اس دن ملک بھر میں فوجی پریڈز، پرچم کشائی، یادگار شہداءپر سلامی اورتقریبات کا انعقادکیا جاتا ہے۔رواں سال یومِ دفاع کا دن عید میلاد النبی ﷺ کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، یعنی 6 ستمبر دونوں مواقع کا سنگم ہے، ایک طرف قومی دفاع کی یادگار اور دوسری طرف عیدِ میلاد النبی ﷺکی مذہبی خوشی۔ ماہ ستمبر شروع ہوتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد شہدا ءپارک چونڈہ کا دورہ کرتی ہے ۔

اسی پارک میں شہداء کی یاد گار ہے جہاں اس جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ملحق شہداء قبرستان میں1965 کی جنگ میں شہید ہو نے والے بہاد ر فوجیوں کی قبریں بھی موجود ہیں جہاں شہری فاتحہ خوانی کرتے اور شہدا کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھاتےہیں اور ان کی بہادری کو سلام بھی پیش کرتے ہیں ۔ انہی دنوں چونڈہ کے مقام پر ایک عظیم الشان میلے کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔پارک میں موجود شہریوں کی بڑی تعداد بھارتی ٹینک اور دیگر جنگی سامان میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتی ہے۔

آنے والے تمام لوگ شہدا اور غازیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ اپریل سے جاری تھی (پہلے کشمیر میں "آپریشن جبرالٹر” اور "آپریشن گرینڈ سلیم” کے تناظر میں)، اس کے بعد بھارت نے 6 ستمبر کی صبح پاکستان کی سرحدوں پر براہِ راست حملہ کیا۔ یہ جنگ صرف کشمیر تک محدود نہ رہی بلکہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی سرحدوں پر پھیل گئی۔بھارتی فوج نے6 ستمبر 1965کی صبح 5 بجے لاہور کے محاذ پر حملہ کیا جس کا مقصد لاہور کو جلدی فتح کرکے پاکستان کو مذاکرات پر مجبور کرنا تھا لیکن پاکستانی فوج، رینجرز اور شہریوں نے بھرپور مزاحمت کی اور واہگہ، برکی اور چونڈہ کے محاذ پر شدید لڑائی ہوئی۔

سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے علاقہ چونڈہ کے محاذ پرستمبر1965میں ٹینکوں کی ایک بڑی جنگ لڑی گئی ، جس میں مقامی لوگوں نے پاک فوج کے ہمراہ حملہ آور بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر خود کوبموں سے اڑا دیا او ربھارتی فوج کے سینکڑوں ٹینکوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ، چونڈہ کے علاقہ کو دنیا ٹینکوں کے قبرستان کے نام سے بھی جانتی ہے۔چونڈہ سیالکوٹ کے لوگوں نے ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران چونڈہ کے قریب مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرکے بہادری کی سنہری تاریخ لکھی۔ستمبر 1965 میں ہونے والی اس پاک بھارت جنگ میں چونڈہ کے محاذ کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔

بھارت نے اپنے جنگی منصوبہ کے مطابق اپنا سب سے بڑا اور فیصلہ کن حملہ اسی محاذ پر کیا ۔ عددی اعتبار سے بھارتی فوج چار ڈویژن فوج کے ساتھ اس محاذ پر حملہ آور ہوئی جس میں ایک آرمڈ ڈویژن اور تین انفنٹری ڈویژن شامل تھے۔ جب بھارتی فوج نے گڈگور کے مقام تک رسائی حاصل کر لی تب اس مقام پر بھارتی فوج کا سامنا پاک فوج کی 25 آرمڈ رجمنٹ سے ہوا اور اس یادگار معرکہ کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے اس پاک فوج کی بٹالین کو جنگ کے بعد جرنل موسیٰ کی طرف سے مین آف سٹیل کا خطاب بھی ملا۔

بھارتی 16کیلوری کے ٹینک آگے بڑھ رہے تھے جب پاک فوج کی 25کیلوری کے سکوارڈن بی نے اچانک ان کا راستہ روک کر بھارتی ٹینکوں پر یکے بعد دیگرے فائر کیے اور ان کے تین ٹینک تباہ کر دئیے۔ بھارتی سکوارڈن کے باقی ماندہ سنچورین ٹینک واپس بھاگ نکلے۔ 14ستمبر 1965کو وہ یادگار جنگ شروع ہوئی جہاں بھارتی فوج کا تکبر پاش پاش ہو گیا۔ 14 ستمبر کو صبح چھ بجے جیسے ہی بھارتی فوج نے قصبہ چونڈہ پر تین اطراف سے گھیرتے ہوئے حملہ شروع کیا تو پاکستانی فوج نے وہ جنگی چال چلی کہ خود بھارتی فوج گھیرے میں آگئی۔

پاکستان کی ایئر فورس توپ خانہ اور آرمڈ بٹالین نے اتنی شدید گولہ باری کی کہ بھارتی فوجی کمانڈر اپنے حواس کھو بیٹھے اور اس محاذ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی دن پاکستان کے کئی فوجی جوانوں اور افسران نے جامِ شہادت نوش کیا۔اسی دن پاکستان کے کئی فوجی جوانوں اور افسران نے جامِ شہادت نوش کیا۔

سب سے نمایاں نام میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا ہے، جنہوں نے لاہور کے برکی سیکٹر میں اپنی جان قربان کی۔تاریخی اعتبار سے ہلال استقلال پاکستان حکومت کی طرف سے سیالکوٹ کو 1966 میں دیا گیا ایک قومی اعزاز ہے جو 1965 کی جنگ میں مضبوط مزاحمت پر شہر کو دیا گیا۔ ہر سال یومِ دفاع پر یہ پرچم سیالکوٹ میں خصوصی طور پر لہرایا جاتا ہے۔