بغداد۔14فروری (اے پی پی):کردستان ریجن کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے کہا ہے کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز تمام کردوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے پڑوسی ملک شام میں سیاسی عمل میں کردوں کی شمولیت کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراقی کردستان کے علاقے میں اسرائیل کی موجودگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے، عراقی کردستان بین الاقوامی اتحادی …
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز تمام کردوں کی نمائندگی نہیں کرتی، وزیر اعظم کردستان ریجن

مزید خبریں
بغداد۔14فروری (اے پی پی):کردستان ریجن کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے کہا ہے کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز تمام کردوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے پڑوسی ملک شام میں سیاسی عمل میں کردوں کی شمولیت کی حمایت کا اعلان کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراقی کردستان کے علاقے میں اسرائیل کی موجودگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے، عراقی کردستان بین الاقوامی اتحادی افواج کی میزبانی کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کردستان کے علاقے میں مزید سعودی کمپنیاں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں بجٹ میں ان کا منصفانہ حصہ نہیں ملتا،جہاں تک بغداد کے ساتھ معاشی مسائل کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا اس کی نوعیت سیاسی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ابھی تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست کوئی بات نہیں کی ہے۔ جمعرات کو شام میں ایوان صدر نے ایس ڈی ایف کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کی خبروں کی تردید کی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے شام کے صدر احمد الشرع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کی افواج شام کی تمام سرزمین پر اپنی خودمختاری کو ایک ہی اتھارٹی کے تحت مسلط کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی ایف کے حوالے سے ان کا موقف مستحکم ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے جاری رہنے پر بھی زور دیا تاہم یہ بھی کہا کہ شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ کرد فورسز واحد گروپ تھا جس نے گزشتہ ماہ اعلان فتح کانفرنس میں حکام کو ہتھیار فراہم کرنے کی نئی انتظامیہ کی کال کا جواب نہیں دیا تھا۔








