اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):سیمنٹ کی صنعتوں کی مجموعی فروخت بشمول مقامی و برآمدات میں جاری مالی سا ل کے دوران 10.86 فیصد اضافہ ہوا ہے، فروری 2026 میں سیمنٹ کی برآمدات میں 37.72 فیصد جبکہ مقامی فروخت میں 8.35 فیصد کی بڑھوتری ہوئی ہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں پہلے 8 ماہ میں جولائی 2025 …
سیمنٹ کی صنعتوں کی مجموعی فروخت میں جاری مالی سا ل کے دوران 10.86 فیصد اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):سیمنٹ کی صنعتوں کی مجموعی فروخت بشمول مقامی و برآمدات میں جاری مالی سا ل کے دوران 10.86 فیصد اضافہ ہوا ہے، فروری 2026 میں سیمنٹ کی برآمدات میں 37.72 فیصد جبکہ مقامی فروخت میں 8.35 فیصد کی بڑھوتری ہوئی ہے۔
آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال میں پہلے 8 ماہ میں جولائی 2025 تا فروری 2026 کے دوران سیمنٹ تیار کرنے والی مقامی صنعت کی مجموعی فروخت (مقامی و برآمدات) کا حجم 34.798 ملین ٹن تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جولائی 2024 تا فروری 2025 کے دوران فروخت کا حجم 31.388 ملین ٹن رہا تھا۔
اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 8 مہینوں کے دوران سیمنٹ کی ملکی صنعت کی مجموعی فروخت میں 3.41 ملین ٹن یعنی 10.86 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اے پی سی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 کے دوران سیمنٹ کی قومی برآمدات 37.72 فیصد کی نمایاں بڑھوتری سے 7لاکھ 32 ہزار 333 ٹن جبکہ مقامی فروخت 8.35 فیصد اضافہ سے 3.467 ملین ٹن تک بڑھ گئی۔
رپورٹ کے مطابق فروری 2025 میں سیمنٹ انڈسٹری کی مجموعی فروخت 3.732 ملین ٹن رہی تھی جبکہ فروری 2026 کے دوران مجموعی فروخت کا حجم 12.51 فیصد کے اضافہ سے 4.199 ملین ٹن تک بڑھ گیا۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 مہینوں میں سیمنٹ انڈسٹری کی مقامی فروخت میں 11.93 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس دوران فروخت کا حجم گزشتہ سال کی 8 ماہ کی فروخت 25.465 ملین ٹن کے مقابلہ میں 28.503 ملین ٹن تک بڑھ گیا۔
اسی طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں سیمنٹ کی ملکی برآمدات میں بھی 6.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور سیمنٹ کی صنعت کی برآمدات کا حجم 5.924 ملین ٹن کے مقابلہ میں 6.295 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔








