سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس،نسٹ میں تعلیمی سہولیات اور مسائل کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) میں ہوا جس میں سینیٹرز ڈاکٹر افنان اللہ خان، ندیم احمد بھٹو، حسنہ بانو اور محمد اسلم ابڑو نے شرکت کی۔کمیٹی کو نسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے یونیورسٹی کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز بارے بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ …

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) میں ہوا جس میں سینیٹرز ڈاکٹر افنان اللہ خان، ندیم احمد بھٹو، حسنہ بانو اور محمد اسلم ابڑو نے شرکت کی۔کمیٹی کو نسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے یونیورسٹی کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز بارے بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1991 میں قائم ہونے والی نسٹ اس وقت 20،000 طلبہ کو 7شعبوں میں 168 ڈگری پروگرام پیش کر رہی ہے ،اس کی 1،296 ممبران کی فیکلٹی ہےجن میں سے 68فیصد پی ایچ ڈی ، 47فیصد غیر ملکی اہل اور 29فیصد خواتین ہیں۔نسٹ کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئےریکٹر نے بتایا کہ یونیورسٹی جنوبی ایشیا میں 6 ویں، ایشیا میں 67 ویں اور کیو ایس ورلڈ رینکنگ 2025 اور2026 میں عالمی سطح پر 371 ویں نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز یونیورسٹی کے تمام امور کی نگرانی کرنے والی مرکزی گورننگ باڈی ہے۔2017 کے اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ پنجاب سے 61.02 فیصد، خیبر پختونخوا سے 11.56 فیصد، اسلام آباد سے 9.69 فیصد، سندھ سے 8.38 فیصد، آزاد جموں و کشمیر سے 3.1 فیصد، بلوچستان سے 2.59 فیصد، گلگت بلتستان سے 2.24 فیصد اور بین الاقوامی طلبہ کی تعداد 0.38 فیصد ہے۔چیئرمین کمیٹی نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی غیر متناسب شرح پر تشویش کا اظہار کیا اور دیگر صوبوں سے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ریکٹر نے واضح کیا کہ داخلے سختی سے میرٹ کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں لیکن صوبوں میں مختلف تعلیمی معیار کچھ طلبہ کی انٹری ٹیسٹ کے ذریعے کوالیفائی کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ نسٹ پاکستان بھر میں طلبہ کی سہولت کے لئے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کرتا ہے اور 40،000 روپے سے کم خاندانی آمدنی والے مستحق طالبعلموں کو 1،000 سے زیادہ وظائف کی پیش کش کرتا ہے۔ریکٹر نے سنگین مالی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی خاص طور پر نسٹ بلوچستان کیمپس کو برقرار رکھنے میں سالانہ 30 ملین روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے باوجود صوبے کے 200 طلبہ کے لیے وظائف کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔ چیئرمین نے چیف سیکرٹری بلوچستان اور بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بی ای ایف) کے سربراہ کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے نسٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ پسماندہ صوبوں کے طلبہ کے لئے تیاری کی کلاسوں کا اہتمام کرے تاکہ وہ داخلے کے لئے کوالیفائی کرنے میں مدد کرسکیں۔کمیٹی نے طالبات کے ہاسٹل کی کمی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ نسٹ آئندہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کرنے کے لیے بروقت تجویز پیش کرے۔ریکٹر نے کمیٹی کو فنڈنگ کی رکاوٹوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 4 ارب روپے سالانہ حکومتی مختص کے مقابلے میں یونیورسٹی کے اخراجات 12 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں جن میں ایک ارب روپے سالانہ بجلی کا بل بھی شامل ہے۔

مالی رکاوٹوں نے مسابقتی تنخواہوں کی پیش کش کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں فیکلٹی کے استعفوں میں اضافہ ہوا ہے۔کمیٹی نے یونیورسٹی کے احاطے سے گزرنے والے ملحقہ علاقوں سے سیوریج کے پانی کے معاملے کا بھی نوٹس لیا۔ کمیٹی نے نسٹ اور سی ڈی اے کے درمیان پانی کی فراہمی، زمین کے استعمال اور تعمیراتی این او سی سمیت مختلف مسائل کے حل کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔