سینیٹ انتخابات قبل از وقت کروانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، خواتین اور بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کیلئے اینٹی ریپ آرڈیننس بہت ضروری تھا، ڈاکٹر شیریں مزاری

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات قبل از وقت کروانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، خواتین اور بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کیلئے اینٹی ریپ آرڈیننس بہت ضروری تھا، انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اہم نوعیت کے مسائل پر مشاورت کے بجائے جلسوں میں مصروف ہیں۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات قبل از وقت کروانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، خواتین اور بچوں کو جنسی درندوں سے بچانے کیلئے اینٹی ریپ آرڈیننس بہت ضروری تھا، انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اہم نوعیت کے مسائل پر مشاورت کے بجائے جلسوں میں مصروف ہیں۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات قبل ازوقت کروانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایک دو وزراءنے صرف رائے دی تھی، کابینہ میں کوئی بات ڈسکس کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ ہو گیا، ہم سپریم کورٹ سے رائے لیں گے کہ الیکشن ایکٹ کے ذریعے انتخابات قبل ازوقت ہو سکتے ہیں یا نہیں جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرول بحران کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی بنائی ہے کہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ آگے جا کر اسطرح کی چیزیں دوبارہ نہ ہو سکیں، کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کو ختم کرنے کی ابھی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اینٹی ریپ آرڈیننس بہت ضروری تھا، پرانے قوانین میں گواہوں اور متاثرین کا تحفظ نہیں تھا، اب بچوں کی وڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو فنگر ٹیسٹ کا عجیب و غریب نظام تھا اس سے خواتین کا استحصال ہو رہا تھا اسلئے ختم کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اصل چیز یہ ہے کہ اپنے قوانین کو مضبوط کریں، تعزیرات پاکستان میں ترمیم کیلئے وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی بنا دی ہے، جبری گمشدگی کے قانون میں سخت سزائیں لائیں گے، بندوں کو غائب کرنا درست نہیں ہے کیونکہ اس سے ان کی فیملیز کو بھی ساتھ سزا ملتی ہے یہ جمہوریت میں نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زردری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کمیٹی بل ڈسکس ہی نہیں کرتی، بلاول بھٹو مظاہروں میں لگ گئے، اجلاس نہیں بلاتے، انسانی حقوق سے متعلق بل روکے رکھنے پر افسوس ہوتا ہے، پہلے زینب الرٹ بل 9 ماہ تک پھنسا رہا، پھر خواتین پر تشدد کا بل چھ سات ماہ تک کمیٹی میں پڑا رہا اور اب ہمیں انتظار ہے کہ وہ بل اسمبلی آئے۔