سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا وزارت قومی غذائی تحفظ کے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے منصوبوں کا جائزہ

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا اجلاس سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز راحت جمالی، سردار الحاج محمد عمر گورگیج اور دانش کمار نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی کو پی ایس ڈی پی2026-27 میں شامل وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے پندرہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جن کی کل …

اسلام آباد۔4مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کا اجلاس سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز راحت جمالی، سردار الحاج محمد عمر گورگیج اور دانش کمار نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی کو پی ایس ڈی پی2026-27 میں شامل وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے پندرہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جن کی کل تخمینہ لاگت 20.5 ارب روپے ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے کمیٹی کو بتایا کہ اولیو ویلیو چین پروجیکٹ کا فیز II جون 2026 تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد فیز III شروع ہو گا۔ اگلے مرحلے کا مقصد 40,000 ایکڑ پر کلسٹر پر مبنی تجارتی زیتون کے باغات اور 300,000 جنگلی زیتون کے درختوں کی پیوند کاری کے ساتھ ساتھ کسانوں کو جامع تربیت فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی کو این اے آر سی میں پرانے، دستی طور پر چلنے والے نظاموں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور پریسجن ایگریکلچر میکانائزیشن سہولت کے قیام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران مویشیوں اور باغبانی کی ترقی اور بالخصوص مقامی نسلوں کو بہتر بنانے اور بیماریوں پر قابو پانے اور بلوچستان اور تھر میں اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر کی ترقی اور برآمد کے لیے 8000 ملین کے منصوبہ سمیت دیگر منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت نے نیشنل ایگری فوڈ لیبارٹری نیٹ ورک (490 ملین روپے) کو کے استحکام، بلوچستان کے ممکنہ اضلاع میں کپاس کی کاشت کو وسعت دینے (808.250 ملین روپے)، مصنوعی ذہانت وغیرہ سے پیدا کی جانے والی فصلوں کی بہتری (786.816 ملین روپے) اور گلگت بلتستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت فروٹ سٹوریج کے لئے ایک کنٹرول ایٹموسفیئر کے قیام کے منصوبے بھی پیش کئے۔ اضافی اقدامات میں قومی بایو فرٹیلائزر اور کمپوسٹنگ پروگرام، چرائی کے علاقوں کی بحالی کے ساتھ مویشیوں کی پائیدار ترقی، درآمدی بیج پر انحصار کو 80 فیصد تک کم کرنے کے لیے آلو کی پیداوار اور فراہمی کا مرکز، اور قومی فصلوں کے تنوع اور درآمدی متبادل پروگرام (تیل کے بیجوں کی گھریلو پیداوار) شامل ہیں۔اجلاس کے دوران کمیٹی کو گلگت بلتستان میں یاک سے حاصل ہونے والی ویلیو ایڈڈ لائیو سٹاک مصنوعات، کھجور کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، خیرپور کی اپ گریڈیشن اور اسلام آباد میں جدید ترین سلاٹر ہاؤس اور ہول سیل میٹ مارکیٹ کے قیام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جس کے لیے سیکٹر I-11/4 میں زمین مختص کی گئی ہے۔کمیٹی نے سینیٹر سردار محمد عمر گورگیج کی طرف سے پیش کی گئی پی ایس ڈی پی 2026-27 میں صوبہ بلوچستان کے لیے دی گئی بجٹ تجاویز کے حوالے سے رپورٹ کو تسلیم کیا۔ چیئرمین نے ڈائریکٹر جنرل نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی ( این اے ایف ایس اے ) کی غیر حاضری کا سخت نوٹس لیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنے موقف کی وضاحت کریں۔