پشاور۔13نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سی پیک محض ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے ہمہ جہت منصوبے کا نام ہے جو خیبر پختوا سمیت پاکستان بھر اور اس پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول رہا ہے اور ہم اس سنہرے موقعے سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے ۔ وہ جمعہ کے روز پشاور میں ایک …
سی پیک سنہری موقع ہے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔13نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سی پیک محض ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے ہمہ جہت منصوبے کا نام ہے جو خیبر پختوا سمیت پاکستان بھر اور اس پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول رہا ہے اور ہم اس سنہرے موقعے سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے ۔ وہ جمعہ کے روز پشاور میں ایک تقریب کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے جس کا عنوان تھا ۔سی پیک کے تحت سرمایہ کاری ، تجارت اور پیپل ٹو پیپل ایکسچینج کے فروغ میں پارلیمنٹ کا کردار ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مباحثے کے انعقاد کا کریڈٹ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو جاتا ہے جو سی پیک سے خیبر پختونخوا کے لئے زیادہ سے زیادہ حصے کا حصول یقینی بنانے کے لئے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا پی ٹی آئی کی گذشتہ صوبائی حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد سی پیک سے خیبر پختو نخوا کے لئے رشکئی اکنامک زون جیسااہم منصوبے حاصل کیا جس کا افتتاح 21نومبر کو وزیرا عظم پاکستان عمران خان کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اب خیبر پختونخوا کے تین موٹرویز,دوتوانائی منصوبوں اور چشمہ رائٹ بینک لفٹ کنال کو بھی سی پیک کا حصہ بنایاجارہاہے,وزیراعلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنانا ہدف ہے اور اسی مقصد کی تکمیل کے لئے ہم وسطی ایشیا کی مارکیٹ تک پہنچناچاہتے ہیں تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان اس عمل میں ہمارا ساتھ دے، انھوں نے کہا خیبر پختونخوا میں خوراک کی قلت دورکرنے کے لیے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کنال کے منصوبے کی تکمیل ناگزیر ہے یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنایا ہے ,وزیراعلی نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سی پیک اکنامک زون بنایاجائے گا اور اس کے علاوہ بھی صوبے میں چارپانچ مزید اکنامک زونز بنارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ادارے پیڈو کے تحت مکمل ہونے والے توانائی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی صوبے کی صنعتوں کوسستے داموں فراہم کی جائے گی جس سے خیبر پختونخوا میں صنعتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔








