سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر کسی خاتون کو قتل کرنا سنگین جرم ہے اور شادی سے انکار کو قتل کے جواز یا سزا میں تخفیف کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا
شادی سے انکار پر قتل کی سزا میں تخفیف نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر کسی خاتون کو قتل کرنا سنگین جرم ہے اور شادی سے انکار کو قتل کے جواز یا سزا میں تخفیف کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے مقتولہ میمونہ شاہین کے قتل میں سزائے موت پانے والے ملزم محمد کامران کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 21 ستمبر 2026ء کو مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ہر خاتون کو اپنی مرضی سے شادی قبول یا مسترد کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور محض انکار پر اس کی جان لینا کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔ شادی دو افراد کی باہمی رضامندی کا رشتہ ہے اور کسی مرد، خاندان یا معاشرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی خاتون پر اپنی مرضی مسلط کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ شادی سے انکار کو اشتعال انگیزی یا سزا میں نرمی کی بنیاد تسلیم کرنا اس تصور کی توثیق کے مترادف ہوگا کہ عورت کی مرضی مرد کی خواہش کے تابع ہے جبکہ ناراضی یا جذبات کو قتل جیسے سنگین جرم کی سزا میں تخفیف کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق ملزم محمد کامران نے میمونہ شاہین کو اس کے گھر میں فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق مقتولہ اور اس کے اہل خانہ نے ملزم کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی، جس پر اس نے قتل کا ارتکاب کیا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (بی) کے تحت سزائے موت اور معاوضے کی سزا سنائی تھی جسے ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ملزم نے نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ تقریباً 14 سال سے قید ہے، لہٰذا اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے تاہم عدالت نے واضح کیا کہ محض جیل میں گزارے گئے عرصے کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور دونوں سزائوں کے تحت قیدیوں کی قانونی حیثیت مختلف ہے۔فیصلے میں قرار دیا گیا کہ عمر متوقع کے اصول کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے کم از کم 25 سال قید، اضافی مضبوط تخفیفی عوامل اور جرم کا انتہائی سنگین نوعیت کا نہ ہونا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق ملزم 5 ستمبر 2012ء کو گرفتار ہوا تھا اور تقریباً 14 سال قید میں گزارنے کے باعث اس اصول سے فائدہ اٹھانے کا اہل نہیں۔
سپریم کورٹ نے خواتین کے خلاف تشدد اور جبری شادی سے متعلق سماجی رویوں پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیرت، خاندانی روایات، انا یا جذبات کے نام پر عورت کی مرضی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں غگ، سوارہ اور وٹہ سٹہ جیسی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خواتین کو اشیاء کی طرح سمجھنے والا ذہن تشدد کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح کے لیے عورت کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے اور خواتین کو اپنی مرضی سے شریک حیات منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان بھی خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کا فریق ہے، جو خواتین کے آزادانہ طور پر شریک حیات کے انتخاب کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں سزا میں تخفیف کا کوئی قابلِ قبول جواز موجود نہیں اور ملزم سابقہ فیصلے میں ایسی کوئی واضح قانونی غلطی یا خامی سامنے لانے میں ناکام رہا جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جا سکتی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کی سزائے موت برقرار رکھی۔







