شمالی کوریا کے پاس دو ٹن تک انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے، جنوبی کوریا

سیئول۔25ستمبر (اے پی پی):شمالی کوریا کے پاس دو ٹن تک انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا کے دونوں کوریائوں میں اتحاد کے وزیر چونگ ڈونگ یونگ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے اس اہم مادے …

سیئول۔25ستمبر (اے پی پی):شمالی کوریا کے پاس دو ٹن تک انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اس بات کا انکشاف جنوبی کوریا کے دونوں کوریائوں میں اتحاد کے وزیر چونگ ڈونگ یونگ نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس طویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے اس اہم مادے کی خاطر خواہ مقدار موجود ہے تاہم چونگ ڈونگ یونگ نے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ پیانگ یانگ کا انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ دو ہزار کلوگرام تک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت شمالی کوریا کی یورینیم سینٹری فیوجز چار مقامات پر چل رہے ہیں۔چونگ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایٹمی بم بنانے کے لیے صرف پانچ سے چھ کلوگرام پلوٹونیم کافی ہے جبکہ دو ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم، اگر صرف پلوٹونیم کی تیاری کے لیے مخصوص ہو، تو ایک بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی ہوگا۔جنوبی کورین وزیر نے کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری ترقی کو فوری روکنا ناگزیر ہے تاہم پابندیاں مؤثر نہیں ہوں گی اور اس کا واحد حل پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان سربراہی ملاقات ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ ان نے رواں چند روز قبل کہا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں اپنا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے 2006 میں پہلا جوہری تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد سے اسے ممنوعہ ہتھیاروں کے پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ کی متعدد پابندیوں کا سامنا ہے۔