اسلام آباد۔ 21 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اہم نظیر قائم کرتے ہوئے عدالتی ڈگری پر عمل درآمد کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانون میں صریح اختیار کے بغیر کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم نہیں …
شناختی کارڈ بلاک کرنا غیر قانونی،عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں کیے جا سکتے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 21 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ پاکستان نے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اہم نظیر قائم کرتے ہوئے عدالتی ڈگری پر عمل درآمد کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانون میں صریح اختیار کے بغیر کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری شے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنا اسے عملی طور پر معاشرتی و قانونی زندگی سے خارج کرنے کے مترادف ہے جو بنیادی حقِ زندگی اور وقار کے منافی ہے۔جسٹس منیب اختر نے فیصلے میں کہا کہ اگر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کی اجازت دی جائے تو کیا کل عدالتیں رقم کی وصولی کے لیے بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کا حکم بھی دیں گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات قانون کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
فیصلے کے مطابق ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا، اس لیے اس بنیاد پر شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مقدمے کے پس منظر میں بتایا گیا کہ 2016 میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی، رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا جسے بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا اور قرار دیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق قانون کے واضح اختیار کے بغیر سلب نہیں کیے جا سکتے۔








