صارفین ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا کرداراداکریں، چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین کیلئے سیلز ٹیکس کی مدمیں ایمنسٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین 2 فیصد کی شرح سے ٹیکس اداکرکے اپنے واجبات کلئیر اور رجسٹریشن حاصل کرسکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبرزیدی نے بدھ کو یہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے ہیڈکوارٹرز میں ممبر پالیسی بورڈ اوردیگر عہدیداروں کے ہمراہ …

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین کیلئے سیلز ٹیکس کی مدمیں ایمنسٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین 2 فیصد کی شرح سے ٹیکس اداکرکے اپنے واجبات کلئیر اور رجسٹریشن حاصل کرسکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبرزیدی نے بدھ کو یہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے ہیڈکوارٹرز میں ممبر پالیسی بورڈ اوردیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس فائلرز کی تعداد کم ہے جبکہ اس کے برعکس کاروبار کی بنیاد وسیع ہے۔ اس وقت صنعتی صارفین کی تعداد3 لاکھ 41 ہزار 174 ہیں جن میں سے سیلز ٹیکس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد صرف 38 ہزار 937 ہے ۔یوں ملک میں بجلی کے صنعتی صارفین کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار 174 ہے، اسی طرح گیس کے رجسٹرڈ صنعتی صارفین کی تعداد 7 ہزار ہے۔ چئیرمین ایف بی آر نے کہاکہ 3لاکھ کے قریب غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین کی رجسٹریشن کیلئے قانون سازی میں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ معاملا ت کو کس طرح خوش اسلوبی سے آگے بڑھائے جاسکتے ہیں، قانون سازی میں کوشش ہونی چاہئیے کہ رضاکارانہ بنیادوں پر ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور صارفین اپنے ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا کرداراداکریں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ہمارا مطمع نظر کاروبارکیلئے بہتر اورسازگارماحول فراہم کرنا ہے،اگر کوئی صنعتی صارف ہے تو اسے رجسٹرڈ ہونا چاہئیے ، اس وقت کاٹیج انڈسٹری کی تفہیم کا غلط استعمال ہورہاہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان معاملات کو درست کریں تاکہ ٹیکس کی بنیادوسیع ہوں ۔سکیم کا ذکرکرتے ہوئے چئیرمین ایف بی آر نے کہاکہ اس کے تحت غیررجسٹرڈ صنعتی صارفین 2 فیصد کی شرح سے ٹیکس اداکرکے اپنے واجبات کلئیر اور رجسٹریشن حاصل کرسکتے ہیں، یہ سکیم 30 جون تک رضاکارانہ بنیادوں پرجاری رہے گی اوراس دوران ایف بی آر فیڈ بیک کاجائزہ بھی لے گا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیلئے ایمنسٹی سکیم سے متعلق سوال پرچیرمین ایف بی آر نے کہاکہ اس طرح کی کوئی سکیم یا تجویز زیرغورنہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں مینوفیکچررز کیلئے اسی طرح کی ایمنسٹی پر پنالٹی عائد ہوتی رہی تاہم اس بارانہیں موقع دیا گیاہے اورمیری ان سے گزارزش ہے کہ وہ اس موقع کا بھرپورفائدہ اٹھائیں کیونکہ ہوسکتاہے کہ جولائی میں سکیم کی شکل وہ نہ ہوں جو آج ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ہماری پوری کوشش ہے کہ یہ سکیم رضاکارانہ ہوں اوراسے درست انداز میں چلایا جائے، اگر ہم ماحول بہتر کریں گے تو ادائیگی بڑھ جائے گی، اس مقصد کیلئے بطورچیئرمین خاص ہدایات جاری کی ہیں، اگر ایف بی آر کے افسران کسی کو ہراساں کررہے ہیں تو ہمیں بتایا جائے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ سکیم کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ بزنس کمیونٹی کویقین ہونا چاہئیے کہ بغیر آگاہی کا کسی کا اکاونٹ منجمد نہیں ہوگا ،کسی کا اکاؤنٹ منجمد کرنے کا ایف بی آر افسر کو حق ہے،تاہم اکاؤنٹ منجمد کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کو بتانا ہوگا،یہ ضروری نہیں ہے کہ اکاؤنٹ منجمد ہی کیا جائے،اکاؤنٹ منجمد کرنے کی منظوری چیئرمین ایف بی آر کے پاس ہے، ہوسکتا ہے یہ اختیار ایف بی آر افسر کو تفویض کردیا جائے،اکاؤنٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ شبر زیدی نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان اور کاروباری طبقے کیلئے ماحول بہتر بنانا چاہتے ہیں، صنعتی صارف کا ٹیکس ہوسکتا ہے صفر ہو تاہم رجسٹریشن کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اورسوال پرانہوں نے کہاکہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشین کے پاس رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہیں جن میں سے صرف 50 ہزار ٹیکس فائلرز ہیں، اس ضمن میں آج چئیرمین ایس ای سی پی سے بات ہوئی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply