صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کاجنیواءمیں افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس سے ورچوئل خطاب

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کے لئے تیار ہے اور ہنر مندی کے ذریعہ لاکھوں پناہ گزینوں کی اپنے معاشرہ میں دوبارہ یکجہتی کے لئے بھی مدد دے گا ۔ جنیواءمیں افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے لئےافغانستان …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کے لئے تیار ہے اور ہنر مندی کے ذریعہ لاکھوں پناہ گزینوں کی اپنے معاشرہ میں دوبارہ یکجہتی کے لئے بھی مدد دے گا ۔ جنیواءمیں افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے لئےافغانستان میں جاری ترقیاتی منصوبے اہمیت کے حامل ہیں۔صدر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے اپنی سرزمین پر بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے اور افغانستان کی تعمیر نو کے لئے انہیں ہنر سکھا نے کے لئے بھی مدد دے سکتا ہے ۔صدر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ دو یا تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین تجارتی ادراک سمیت مختلف ہنر سیکھنے کے ساتھ اپنے وطن واپس جاسکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ایک خوشحال مستقبل کے لئے اس کی ترقی کے لئے ایک ارب ڈالر کے اخراجات کئے جو دونوں ممالک کے لئے مفید ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جیو اقتصادی اور جیو سٹریٹجک مرکز بن سکتے ہیں جس سے وسطی ایشیا سے براستہ افغانستان تجارتی سامان پاکستان آسکے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام اپنے سیاسی و اقتصادی نظم و نسق کا فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر )کے موجودہ سربراہ فلپو گرینڈی اور سابقہ سربراہ انتونیو گوئترس کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی بحالی کے لئے یو این ایچ سی آر کے کام کو سراہا ، صدر نے امن عمل کے لئے آگے بڑھنے پر افغانوں ، ان کی حکومت اور طالبان کو مبارکباد دی اور کہا کہ افغانستان کے عوام کے مفاد کے لئے اس کی اپنی جہتیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے امن عمل کی بحالی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے جو ایک انتہائی اہم اورسنہری دور ہے ، افغانستان میں امن و سلامتی کے لئے خوشحالی کی شکل میں مواقع پیدا ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی چار عشروں کی تباہ کاریوں سے متاثر ہونے والا پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن کے فوائد سے پاکستان کو فائدے ملیں گے ۔ صدر نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں اور عوام سمیت کسی حلقہ نے افغان پناہ گزینوں کی کبھی مخالفت نہیں کی اور انہیں وقار کے ساتھ واپس بھیجنے کے لئے آواز بلند کی ۔صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کانفرنس افغانستان میں قیام امن کی کوشش ثابت ہو گی اور افغان معاشرہ کے اندر امن فروغ پائے گا ۔اعلیٰ سطحی مشاورت کا بڑا مقصد افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور اپنے معاشرے میں دوبارہ آباد کاری کے لئے اعلیٰ سطحی مشاورت تھا جس میں عمل امن سمیت افغانستان کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا گیا ، کانفرنس میں افغان پناہ گزینوں کی مدد اور انہیں پناہ دینے والے ممالک کی سپورٹ جاری رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ۔اعلیٰ سطحی کانفرنس میں افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس ، افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمیشن کے سربراہ فلپو گرینڈی نے بھی خطاب کیا اور گزشتہ اکتالیس برسوں سے پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی اور تحفظ کی تعریف کی ۔ انہوں نے افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کے مثبت اور اہم کردار کو بھی سراہا

مزید خبریں