صدرممنون حسین کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے تیرھویں اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں دانش وارانہ سطح پر ریاست کی قابل قدر معاونت کی ہے، انتہا پسندی کی وجوہات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے سلسلے میں اس جامعہ کے زیر اہتمام علمائے کرام کا فتویٰ ” پیغام پاکستان “ انتہائی اہمیت …

اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں دانش وارانہ سطح پر ریاست کی قابل قدر معاونت کی ہے، انتہا پسندی کی وجوہات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے سلسلے میں اس جامعہ کے زیر اہتمام علمائے کرام کا فتویٰ ” پیغام پاکستان “ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد علماءکرام کی طرف سے آنے والی اہم ترین دستاویز ہے۔ انہوں نے یہ بات ایوانِ صدرمیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا بورڈ آف ٹرسٹیز کے تیرھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بورڈ آف ٹرسٹیز کی خالی نشست کے لئے سوڈان کے سابق صدرعبدالرحمن سوار الذھاب کو رکنیت دینے کی تجویز منظور دی گئی۔اجلا س میں شرکت کرنے والے اراکین کا تعلق پاکستان، سعودی عرب، مراکش، مصر، کویت اور دیگر کئی اسلامی ممالک سے تھا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے انتظامی امور سے متعلق اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات اور تحقیقی ادارے انسانیت کودرپیش مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے سلسلے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کا معاشرے کی سیاسی ، معاشی اور سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ ان معاملات میں بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کی خدمات قابل قدر ہیں۔