اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیرسردار مسعود خان نے لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں کے عوام کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش اور لگن سے منانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال جس طرح برطانیہ، اٹلی، کینیڈا، جرمنی، فرانس، سپین، برسلز، امریکہ، مشرق وسطحی اور ایشیاءبحرالکاہل کے ممالک میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر …
صدر آزاد جموں و کشمیرسردار مسعود خان کالندن میں استقبالیہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) صدر آزاد جموں و کشمیرسردار مسعود خان نے لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں کے عوام کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش اور لگن سے منانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال جس طرح برطانیہ، اٹلی، کینیڈا، جرمنی، فرانس، سپین، برسلز، امریکہ، مشرق وسطحی اور ایشیاءبحرالکاہل کے ممالک میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا، اس سے یہ دن بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور انصاف کے شیڈو وزیر عمران حسین کی طرف سے ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی حکومت کی طرف سے برطانوی دارالعوام میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس پر پابندی لگانے کے مطالبہ کو مسترد کرنے پر برطانیہ کی حکومت اور کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ استقبالیہ تقریب میں پاکستا ن کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان، کونسلرز، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے رہنماﺅں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے اظہار رائے کو غصب کر کے آزادی رائے کے حق کو جس طرح چھینا گیا اس نے بھارتی حکومت کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھا کہ وہ برطانیہ کی پارلیمان پر بھی ایسی ہی پابندیاں نافذ کرے گی جسے برطانیہ کی حکومت اور پارلیمنٹ کے ارکان نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہل جموں و کشمیر برطانیہ کی حکومت اور پارلیمنٹ کے اُس جرا¿ت مندانہ اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت اور پارلیمنٹ نے دو دن کشمیر کےلئے ایسے وقت میں وقف کئے جب برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملہ میں الجھا ہوا تھا۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ اور پارلیمنٹ سکوائر میں یکجہتی ریلی اور ایم پی عمران حسین کی طرف سے ایک بڑی استقبالیہ تقریب کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی عکاسی کرنے والی تصویری نمائش جس میں خاص طور پر کشمیریوں نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے بصارت سے محروم کرنے کے ظالمانہ اقدام کی عکاسی کی گئی کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ تین فروری کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وادی کشمیر کا دورہ کیا جہاں کشمیریوں نے کالے جھنڈوں سے استقبال کر کے کشمیر پر بھارت کے دعوے کو مسترد کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ بھارت کی طرف سے عائد تمام پابندیوں کو مسترد کر کے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی ، غیرت اور وقار کی زندگی گزاریں گے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 200 سال سے اپنی آزادی کی تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پہلے ڈوگرہ ظالمانہ نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور گزشتہ71 سال سے وہ بھارت کی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور انشاءاللہ وہ اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ صدر آزاد کشمیر نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں قائم کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ تیار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ، حکومت اوراقوام متحدہ کو اس رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات پر عملدرآمد کرنے کےلئے عملی اقدامت اٹھانے چاہئیں۔ انہو ں نے کہا کہ اس سلسلہ میں برطانیہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے یہ خصوصی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کو مسئلہ کشمیر کو اس کے صحیح تناظر میں اُجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مہم کو مزید تیز تر کریں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کےلئے خطوط، فون کالز اور ملاقاتوں کے ذریعے اپنے اپنے حلقوں کے ممبران پارلیمنٹ کو بھارتی فوج کے مظالم سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جو جرائم کر رہا ہے اُ س پر عالمی برادری کو اس کی باز پرس کرنا ہو گی اور مغربی ممالک جو بنیادی انسانی حقوق کے محافظ ہیں کو اپنی خاموشی ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آواز بلند کرنا ہو گی جہاں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کا قیام ناگزیر ہے۔








