صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کی انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پیس لیڈرز کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت امن کے سفیروں کی ضرورت ہے اور تمام دنیا کی سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر فسطائیت کا راستہ روکنا ہو گا، دنیا کو امن، ترقی اور خوشحالی سے آراستہ کرنے کےلئے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، اس وقت مقبوضہ کشمیر میں فسطائیت اور ریاستی دہشت …

اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت امن کے سفیروں کی ضرورت ہے اور تمام دنیا کی سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر فسطائیت کا راستہ روکنا ہو گا، دنیا کو امن، ترقی اور خوشحالی سے آراستہ کرنے کےلئے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، اس وقت مقبوضہ کشمیر میں فسطائیت اور ریاستی دہشت گردی کا دور دورہ ہے، ہندوستان کی 9 لاکھ افواج نے نہتے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا کے رکھ دی ہے، ان کی زبانوں پر تالہ بندی کر دی گئی ہے، لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق مسخ کر دیئے گئے ہیں لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ وہ جمعرات کو صدر آزاد جموں و کشمیر نے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پیس لیڈرز کے وفد سے بات چیت کررہے تھے۔ وفد میں برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، سنگاپور، سری لنکا اور پاکستان سے محمد عطاءالرحمان چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پیس لیڈرز، لیڈی مایا، ساجدہ نواب، ستارہ شوکت، نجمہ شاہین، نورجہاں اصغر، محمد امیر الشہاب، چہتری ہیپو گیلی، پروفیسر سرفراز کریجو، خدیجہ ملک شامل تھے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آج انسانیت کو درپیش مشترکہ خطرے نے آپ سب کو جو مختلف ممالک، مذاہب، رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہیں انہیں ایک جذبے کے تحت ایک بڑے کاز کےلئے یہاں لایا ہے جس پر ہم آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کو آج چند مشترکہ عالمی چیلنجز کا سامنا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی، غربت کا خاتمہ، خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کچھ طاقتیں انسانیت اور انسانی حقوق کو پس پشت ڈال کر اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں جس کا عملی مظاہرہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستان کو کھلی چھٹی دینے سے صاف عیاں ہے۔آج بین الاقوامی سول سوسائٹی اور دنیا کے امن خواہاں لوگوں کو آگے بڑھ کر ان طاقتوں کے دوہرے معیار کو روکنا ہو گا۔ صدرآزادکشمیر نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے قوانین کا نفاذ کر کے نو لاکھ ہندوستانی افواج نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے، ایسے حالات میں آپ سب کو ان کشمیریوں کی آواز بن کر مردہ عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا ہو گا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آج پاکستان اور آزادکشمیر کے ہمارے طلبا و طالبات پوری دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید شعبوں جس میں مصنوعی ذہانت، بائیو انجینئرنگ، کرپٹو کرنسی، روباٹکس شامل ہیں، ان شعبوں میں زیور تعلیم آراستہ ہو رہے ہیں۔ وفد کے تمام ممبران نے صدر آزادکشمیر کو یقین دلایا کہ وہ سب کشمیر کاز کے لئے کام کریں گے اور اپنے اپنے ملکوں میں حکومتوں اور لوگوں کو مسئلہ کشمیر سلسلے میں متحرک کریںگے۔ اس موقع پر وفد کے سربراہ عطاءالرحمان نے کہا کہ وہ اور ان کا وفد امن کے سفیر بن کر آئے ہیں اور وہ ہر فورم پر کشمیر یوں کو آزادی دلوانے کے لئے اپنی انتھک کاوشیں جاری رکھیں گے ۔ شاہ عبد الطیف یونیورسٹی خیرپور کے پروفیسرسرفراز کریجو نے تجویز پیش کی کہ ان کی یونیورسٹی آزادکشمیر حکومت سے مل کر باہمی تعاون سے کشمیر کاز کے لئے کام کریں گے اور انہوں صدر آزادکشمیر کو اپنی یونیورسٹی میں طلبہ سے مخاطب ہونے کی دعوت بھی دی۔ وفد کی ایک اہم رکن چیتری ہیپو گیلی نے جو کہ سنگاپور سے تشریف لائی تھیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں انوسٹمنٹ اور مختلف معاشی اور خوشحالی کے منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا جس پر صدر آزادکشمیر نے ان کا شکریہ ادا کیا۔