صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ تیل و گیس کی فراہمی پر دبائو ، توانائی کی بڑھتی لاگت اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر عوام، بالخصوص عام آدمی پراشیائے ضروریہ اور خدمات کے حوالے سے بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
صدر آصف علی زرداری توسیعی مشاورتی اجلاس ، اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کم کرنے کے اقدامات پر بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ تیل و گیس کی فراہمی پر دبائو ، توانائی کی بڑھتی لاگت اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر عوام، بالخصوص عام آدمی پراشیائے ضروریہ اور خدمات کے حوالے سے بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ صدر نے یہ بات ایوانِ صدر میں ایک توسیعی مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، چاروں صوبوں کی قیادت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں دیگر شرکاء میں نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور ڈویژن و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد خان چیمہ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد، وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری، مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی وزیر اعظم طارق باجوہ، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ڈاکٹر عاصم حسین اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر افسران شامل تھے۔ اجلاس کو چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کم کرنے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی تاکہ ایک مربوط قومی ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وسیع تر علاقائی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو یقین دہانی کرائی گئی کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت ایندھن کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں، جبکہ مستقبل کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جن میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ حالیہ روابط اور تنازع میں شامل ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت شامل ہے۔ انہوں نے بیجنگ کے اپنے آئندہ دورے کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو متعدد بار مسترد کیا گیا، جبکہ کفایت شعاری اقدامات سے بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کی جا رہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کفایت شعاری کا آغاز حکومت نے خود اپنے اخراجات کم کر کے کیا، جس میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد فوری طور پر بند کرنا شامل ہے۔ صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کو اس مشکل وقت میں تنہا ئ نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مربوط فیصلے کیے جائیں اور معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی تیاریوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ صدر نے عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت پر بھی زور دیا، جن میں ایندھن کے استعمال میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کی ترغیب شامل ہو، تاکہ طلب کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔








