صدر آصف علی زرداری سے روسی وزیرداخلہ کی ملاقات، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، علاقائی روابط اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
صدر آصف علی زرداری سے روسی وزیرداخلہ کی ملاقات، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، علاقائی روابط اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، صنعتی ترقی، علاقائی روابط اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادتوں کے درمیان پائی جانے والی خیرسگالی کو عوام کے لیے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار روسی فیڈریشن کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے ایوانِ صدر میں ان سے ملاقات کی۔
منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے روسی وزیر داخلہ کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعلقات جغرافیائی سیاسی حالات اور تیسرے ممالک کے ساتھ تعلقات سے قطع نظر مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے موجودہ ادارہ جاتی طریقہ کار سے بھرپور استفادہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ مالی سال 2025ء کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 243.412 ملین ڈالر رہا، جو دونوں ممالک کی تجارتی صلاحیت کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔صدر زرداری نے روس کو توانائی کے شعبے میں پاکستان کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی رابطہ پل بناتا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کے علاوہ وسطی ایشیا کے راستے ریلوے اور سڑکوں کے ذریعے رابطوں کو مضبوط بنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست پروازوں کی جلد بحالی اور مال برداری کے روابط بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔عوامی روابط اور تعلیمی تعلقات کے حوالے سے صدر مملکت نے روسی شہریوں کو پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کو سراہا اور زور دیا کہ پاکستانی تاجروں، سیاحوں اور طلبہ کے لیے بھی اسی طرح ویزا سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے روس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ویزا، رہائش اور امیگریشن سے متعلق مسائل حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔علاقائی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص بحری آمدورفت، توانائی کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنازع علاقائی استحکام، عالمی توانائی کی سلامتی، تجارت اور سپلائی چینز کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔صدر مملکت نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی اپیل کی، جبکہ اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی اہمیت بھی اجاگر کی۔روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات قائم ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید بہتر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مختلف کثیرالجہتی فورمز، بالخصوص اقوام متحدہ میں پاکستان کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔روسی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو وسعت دینے کے لیے نمایاں امکانات موجود ہیں۔روسی وزیر داخلہ نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو روس کے دورے کی دعوت بھی دی۔روسی فیڈریشن کے پاکستان میں سفیر البرٹ پی۔ خوروف بھی وزیر داخلہ کے ہمراہ تھے۔وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات سید محسن رضا نقوی بھی ملاقات میں موجود تھے۔








