صدر مملکت ممنون حسین کا نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے سالانہ کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم نہ بنانے سے ملک کا جوہر قابل غربت کے اندھیروں میں ڈوب گیا اورکتاب سے دوری نے عالمی سطح پر بے چینی اور خونریزی کا راستہ کھولا ہے، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو قومی زبان سے وابستہ کیا جائے اور انہیں مقامی حالات اور ماحول کے مطابق فروغ دیا …

اسلام آباد ۔ 6 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم نہ بنانے سے ملک کا جوہر قابل غربت کے اندھیروں میں ڈوب گیا اورکتاب سے دوری نے عالمی سطح پر بے چینی اور خونریزی کا راستہ کھولا ہے، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو قومی زبان سے وابستہ کیا جائے اور انہیں مقامی حالات اور ماحول کے مطابق فروغ دیا جائے، اہلِ علم اور ریاستی اداروں کے فکر و عمل کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، پاکستانی قوم بھارتی ظلم و جبر کا شکار کشمیریوں کے ساتھ ہے اور پاکستان بھارت کے بدترین تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے اور عالمی برادری اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے۔ وہ یہاں نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے سالانہ کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ مشیر وزیر اعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی ، وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن اور نیشنل بک فا ﺅنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ صدر مملکت نے اِس سال کتاب میلے کے لیے مرکزی خیال ” کتابوں کی دنیا سلامت رہے“ کے موزوں انتخاب کو سراہتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ علم و ادب کی دنیا میں خوشگوار روایت کی حیثیت اختیار کر جانے والا یہ میلہ ملک کے طول و عرض میں علم کا نور اور کتابوں کی خوشبو پہنچانے میں کامیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں کی سلامتی کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ کتاب برائے انسانیت سلامت رہے۔

مزید خبریں