اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط بنانا میری ذمہ داری ہے‘ اپوزیشن کی تحریک سے کسی کو خطرہ نہیں‘ نواز شریف قومی اداروں پر تنقید نہ کریں بلکہ ملک واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں‘ حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بہتر حکمت عملی اپنائی‘ کراچی پیکج سے صورتحال بہتر ہوگی۔ جمعہ کو نجی ٹی وی کو …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط بنانا میری ذمہ داری ہے‘ اپوزیشن کی تحریک سے کسی کو خطرہ نہیں‘ نواز شریف قومی اداروں پر تنقید نہ کریں بلکہ ملک واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں‘ حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بہتر حکمت عملی اپنائی‘ کراچی پیکج سے صورتحال بہتر ہوگی۔ جمعہ کو نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں تحریک چلتی رہتی ہے جسے اکثر میڈیا بڑھا کر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پورا اعتماد ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ صدر نے کہا کہ اپوزیشن رہنما کی اداروں پر تنقید افسوسناک ہے‘ ہمیں اپنے اداروں کا تحفظ کرنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن ملک کی بہتری کیلئے آپس میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حقیقی ایشو کرپشن کو حل کرنے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں‘ احتساب ہو رہا ہے‘ عدلیہ کرپشن کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے میں بلا تفریق احتساب پر یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومتی کارکردگی سے بہت مطمئن ہوں‘ صدر نے کہا کہ حکومت نے کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے جو کوششں کی وہ قابل تعریف ہیں‘ اگرچہ اس مسئلے کے باعث بیروزگاری بڑھی تاہم حکومت نے تعمیرات اور امید کا پیکج دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں قومی ایشوز پر سب کو اکٹھا کرنا چاہتا ہوں‘ اپوزیشن کا الزام غلط ہے کہ حکومت آرڈیننسوں پر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف باہر بیٹھ کر اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ ملک جو انتشار پیدا کرے گا میں اس کے خلاف ہوں‘ تمام ملکی ادارے اکٹھے ہیں اور کرپشن کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی جرائم میں اگر کسی کے اثاثے اس کے آمدن سے زائد ہوں تو اس کو جواب دینا ہوتا ہے اور اسلام میں بھی آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے والا جوابدہ ہوتا ہے۔ صدر نے کہا کہ عدلیہ کو سلام پیش کرتا ہوں جو کرپشن کا مقابلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانون سازی کیلئے سینیٹ الیکشن کا انتظار کر رہی ہے‘ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایکٹ بن گیا ہے‘ امید ہے اس سے بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے میڈیا‘ علمائ اور عوام کا تعاون قابل تعریف ہے۔ صدر نے کہا کہ پیمرا نے نواز شریف اور اشتہاری ملزمان کی تقاریر نشر کرنے پر جو پابندی لگائی ہے میں اس پر حکومت کے ساتھ ہوں‘ ملکی اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف عدلیہ سے کیے گئے وعدے کو پورا کریں جو پلیٹ لیٹس کی کمی کے معاملے پر باہر گئے تاہم ان کی صحت بہتر ہے جنہیں ملک واپس آکر اپنے کیسز کی خود پیروی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ بیرون ملک ایم کیو ایم کے بانی کے اشاروں پر ملک میں قتل و غارت ہوئی اور جب یہ معاملہ برطانیہ سے اٹھایا گیا تو برطانوی حکومت نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں‘ بانی ایم کیو ایم کے معاملے پر برطانوی حکومت نے تاخیر کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے درمیان ایسے معاملات سے نمٹنے کیلئے تعاون ہونا چاہیے۔ صدر نے کہا کہ نواز شریف کی باتوں سے ملک کا دشمن خوش ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کو واپس لانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے اس سلسلے میں ممالک کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پیکج سے شہر کی صورتحال میں بہتری آئیگی‘ سندھ کے مسائل کا حل وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 11 ستمبر کو مزار قائد پر گورنر سندھ اور وزیراعلی سے کہا کہ وہ آپس میں تعاون کی فضا رکھیں۔ صدر نے کہا کہ کراچی کیلئے 1100 ارب روپے کے پیکج سے پانی‘ سرکلر ریلوے اور سیوریج جیسے بنیادی مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سیاسی ہنگامے کی نذر نہیں کرنا چاہیے اور یہ معاملہ جلد حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف کے معاملے پر بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی جس میں اسے ناکامی ہوئی۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کے متعلق انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص سے اس بیماری پر جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا میں بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کے زندہ بچنے کے 98 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ شرح کم ہے‘ اگر ابتدائی سطح پر کینسر کی تشخیص ہوجائے تو علاج جلد ممکن ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب نے ثابت کیا ہے کہ جو خواتین بچوں کو دو سال تک دودھ پلاتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کے امکانات کم ہوتے ہیں۔








