صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ڈیجیٹل معاشرے میں پائیدار ترقی کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، پاکستان بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے استفادہ کر سکتا ہے، ہمیں پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوزکرنا ہو گی۔ پیر کو یہاں ڈیجیٹل معاشرے میں پائیدار ترقی کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا …

اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، پاکستان بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے استفادہ کر سکتا ہے، ہمیں پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوزکرنا ہو گی۔ پیر کو یہاں ڈیجیٹل معاشرے میں پائیدار ترقی کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ چوتھے صنعتی انقلاب نے زندگی کے ہر شعبہ میں اہم اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس سے بہت سے چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں اور اس کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہیں، زندگی کے بہت سے شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوﺅں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں اور کیسے اس سے استفادہ کرکے عوام کیلئے سہولت پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کی فلاح و بہبود کے پروگراموں میں بھی مدد مل سکتی ہے، اس سے احساس پروگرام کو کامیاب کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور زراعت کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مقامی طور پر اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے غریب اور امیر کے درمیان فرق اور معاشرتی تفریق ختم کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوزکرنا ہو گی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یونیورسٹیوں، نجی شعبے اور آزاد محققین پر زور دیا کہ وہ پالیسیوں اور عملدرآمد کے درمیان خلاءکو پُر کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ پاکستان اعتماد کے ساتھ آنے والے انقلاب کا سامنا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے مطلوبہ معیارات کے حصول کے لئے تعلیم یافتہ افراد کو پیدا کرنے کے لئے تدریسی معیار کو بہتر بنایا، جاپان اور جرمنی نے طے شدہ معیار کے مطابق پاکستان سے ایک لاکھ گریجوایٹس کی خدمات حاصل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں پائیدار ترقی اور لوگوں کی سوچ باہم وابستہ ہے کیونکہ ڈیجیٹل انقلاب لوگوں کی روز مرہ زندگی سے متعلق ہے، پوری دنیا کے دانشور ڈیجیٹل دور پر کام کر رہے ہیں اس لئے پاکستان کو بھی اس دوڑ میں شامل ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمے کے شعبے میں کردار ادا کرنے کے لئے بہت سی مثبت خصوصیات رکھتا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے غربت کے خاتمے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے موجودہ حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے غریب اور بے سہارا لوگوں کی بہتری کےلئے احساس پروگرام کا آغاز کیا ہے، احساس پروگرام میں خواتین کے لئے بھی خصوصی پیکج رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ موسم کی صورتحال کے مطابق کسانوں کی ضروریات پانی اور کھاد سمیت دیگر پہلوﺅں کے حوالے سے ٹیکنالوجی اہم کردار کر سکتی ہے جس سے درپیش چیلنجز کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پیداوار بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں علم ”کلاﺅڈ“ پر منتقل ہو چکا ہے اب لوگوں کو یونیورسٹی یا لائبریری جانے کی بجائے آن لائن ہی مطلوبہ معلومات اور تفصیلات مل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں سمیت کوئی بھی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ معاشرے میں ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کو ختم کر سکے۔ انہوں نے فیس بک کی مثال دی جو حکومتوں سے بھی زیادہ با اثر بن چکی ہے۔ صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور پلیٹ فارمز کی شراکت داری ہونی چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کی ضروریات اور ذمہ داریاں ادا ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سائبر جنگ میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ قبل ازیں سماجی بہبود کیلئے وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، کسی بھی ملک کیلئے انسانی وسائل بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام ملک میں غربت کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کرے گا، خواتین کو بھی سماجی بہبود کے مختلف پروگراموں میں بھرپور نمائندگی دی جا رہی ہے، حکومت ڈیجیٹل سلوشنز کے حوالہ سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سمیت پاکستان کی تمام آبادی تک ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس کو بروئے کار لا کر سماجی و اقتصادی بہبود کے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں مدد مل سکے۔